بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 341
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیم یافتہ افراد کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ بنگلور میں ۲۵-۲۶ دسمبر ۱۹۹۳ کو دلت لوگوں کی ایک کانفرنس ہوئی۔ یہ کانفرنس ان کی تعلیم کی طرف سے کی گئی تھی۔ انھوں نے ایک متفقہ اسٹیٹمنٹ (Council of Indigenous People) کے ذریعہ اعلان کیا کہ آرین لوگ سب کے سب دیسی ہیں جو مغرب سے انڈیا میں آئے۔ انڈیا کے اصل باشندے (مول بھارتی) صرف وہ لوگ ہیں جن کو شیڈولڈ کاسٹ ، شیڈولڈ ٹرائیب اور ریکورڈ کلاس کہا جاتا ہے۔ دلت اور قبائلی لوگوں ہی نے وادی سندھ کی تہذیب بنائی، مسلمان، عیسائی، سکھ انھیں تینوں سے نکل کر اپنے موجودہ مذہب میں داخل ہوئے : Dalits and Tribals built the Indus Valley Civilisation. Muslims/Christians/ Sikhs are the converts from the above three sections. اس کانفرنس کے بارہ میں عام اخباروں میں کچھ نہیں چھپا۔ مذکورہ خبریں نے بنگلور سے نکلنے والے انگریزی پندرہ روزہ دلت وائس (Dalit Voice) کے شمارہ ۱۶-۲۱ جنوری ۱۹۹۳ میں پڑھی۔ یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آیا جس کا تعلق بنگلور سے ہے۔ اس کو مسٹر نانی پالکھ والا نے اپنی تازہ کتاب (We, the Nation) میں بیان کیا ہے۔ جون ۱۹۷۵ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں اندر اگاندھی کے پارلیمنٹ کے الیکشن کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اندرا گاندھی نے فوری طور پر نانی پالکھ والا کو بلایا تاکہ عارضی خلاصی (interim relief) کے لئے اپنی اپیل سپریم کورٹ میں فائل کر سکیں۔ سپریم کورٹ میں کیس داخل کرنے کے بعد جب نانی پالکھ والا بمبئی واپس جا رہے تھے تو ۲۵ جون ۱۹۷۵ کو ہوائی جہاز میں ان کی ملاقات ایک کھدر پوش آدمی سے ہوئی جو ان کے پاس کی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس آدمی نے کہا کہ وہ بنگلور کے گاندھی آشرم میں رہتا ہے۔ وہاں ایک غیب دان (clairvoyant) نے اس کو بہت بتایا تھا کہ عدالت میں اپنا کیس ہارنے کے باوجود اندر اگاندھی دنیا کی سب سے طاقت ور عورت بن جائیں گی۔ تاہم یہ غیر معمولی طاقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader