Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

جو وہ حاصل کریں گی وہ مارچ ۱۹۷۹ء میں ختم ہو جائے گی۔ نانی پالھی والا لکھتے ہیں کہ میں بمبئی پہنچا تو اس گفتگو کے ۳۶ گھنٹے بعد ۲۶ جون ۱۹۷۵ کو اندر اگاندھی نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔ اور علاوہ انڈیا کی ڈکٹیٹر بن گئیں۔ اس کے بعد ٹھیک مذکورہ پیش گوئی کے مطابق مارچ ۱۹۷۹ء کے الیکشن میں اندر اگاندھی کو شکست ہوئی اور ان کی سیاسی عظمت اچانک مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ ۲۲ مارچ ۱۹۷۹ء کو نانی پالھی والا کی ملاقات دہلی میں اندر را گاندھی سے ہوئی۔ انھوں نے اندر را گاندھی کو بنگلور کے آدمی کا مذکورہ قصہ سنایا اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ اندر را گاندھی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے ان کو اتنا زیادہ غم زدہ حالت میں دیکھا: She had tears in her eyes—the only time I saw her in such a sad mood. (p.xix) اندرا گاندھی ۱۹ نومبر ۱۹۱۷ء کو آنند بھون (الہ آباد) میں پیدا ہوئیں ۔ ۶۰ سال تک انھوں نے انتہائی کامیاب زندگی گزاری۔ ان کو عیش و آرام سے لے کر شہرت اور اقتدار تک ہر چیز بھر پور طور پر حاصل ہوئی ۔ مگر جب یہ چیزیں چھینیں تو ایک لمحہ میں لذت اور مسرت کی ساری کیفیات ان سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو چکی تھیں ۔ ایسا نہیں ہوا کہ ۶۰ سال تک اگر وہ پانے کی لذت میں سرشار تھیں تو اگلے ۶۰ سال وہ یادوں کی لذت میں سرشار رہتیں ۔ عبداللہ ہرمی صاحب (۳۵ سال) بنگلور میں الرسالہ مشن کو پھیلانے کے لئے بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔ الرسالہ اور دوسری کتابوں کو پھیلانے کے علاوہ خود بھی وہ کئی نئے نئے طریقے اختیار کرتے ہیں ۔ مثلاً الرسالہ کے کچھ مضامین کی فوٹو کاپی کر کے لوگوں میں تقسیم کرنا وغیرہ۔ ایک ملاقات کے دوران انھوں نے کہا کہ ۶ دسمبر کا حادثہ مسلمانوں کے لئے چشم کشا ثابت ہوا ہے۔ اب وہ الرسالہ مشن کے زیادہ قریب آرہے ہیں۔ اب ان کی سمجھ میں وہ بات آنے لگی ہے جو الرسالہ میں ۲۵ سال سے پیش کی جارہی تھی ۔ اب وہ اس حقیقت کو سمجھ گئے ہیں کہ ٹکراؤ کا دروازہ اگر چہ ان کے لئے بند ہے مگر امن کا دروازہ ان کے لئے پوری طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page