Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 343

By Maulana Wahiduddin Khan

کھلا ہوا ہے۔ یہ ایک امید افزا تبدیلی ہے۔ انشا اللہ اس کے مثبت نتائج مستقبل قریب میں نمایاں ہوں گے۔ یہاں کے ایک ۳۵ سالہ کرسچین نوجوان (R. D. Isaac) نے ۱۹۸۶ء میں اسلام قبول کر لیا۔ اس وقت وہ دبئی میں مقیم تھے۔ وہ جس بلڈنگ میں رہتے اس میں ایک پاکستانی بھی تھے۔ دونوں میں اکثر ملاقاتیں ہوتی رہتی تھی۔ ملاقات کے دوران اکثر اسلام اور مسیحیت پر بھی گفت گو ہوتی۔ مذکورہ کرسچین محسوس کرنے لگے کہ ان کے پاس اپنے عقائد کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ جب کہ ان کے مسلمان دوست کا جو عقیدہ ہے اس کے حق میں اس کے پاس پورا ثبوت موجود ہے۔ اس طرح وہ دھیرے دھیرے متاثر ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ دہی میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ان کا موجودہ نام محمد عیسی ہے۔ ایک بار مذکورہ کرسچین نوجوان نے پاکستانی مسلمان سے کہا کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں، مسلمان نے کہا کہ مسیح حضرت مریم کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ اب اگر آپ کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں تو خدا کا رشتہ مریم سے کیا تھا۔ اس طرح کی باتوں سے کرسچین نوجوان کو دھکا لگا اور دھیرے دھیرے وہ بالکل بدل گئے۔ تعلیم یافتہ افراد کی مختلف مجلسوں میں اظہار خیال کا موقع ملا۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ انڈیا کے مسائل بہت گہرے ہیں، وہ سطحی یا وقتی تدبیروں سے حل ہونے والے نہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ یہاں میں ایکتا اندولن کے نام سے ایک تحریک چلاؤں۔ اس کے ذریعہ سے ملک میں ایک ذہنی بیداری لانے کی کوشش کی جائے۔ اس تحریک کا پیغام ہو ایک خدا ایک انسان، ایک قوم۔ اس قسم کی ایک تحریک آج وقت کی ضرورت ہے۔ اگر ان تین نکات پر مشتمل ایک طاقتور تحریک اٹھائی جائے تو مجھے یقین ہے کہ ملک میں بہت سے لوگ اس کی حمایت کریں گے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے صاحبزادے جناب فاروق مودودی نے لکھا ہے کہ " ایک بار مولانا داؤد غزنوی مرحوم ہمارے والد سے ملنے کے لئے آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے والد صاحب سے کہا کہ مولانا، آپ نے کام تو وہ کیا جو اپنے زمانہ میں ابن تیمیہ نے کیا تھا،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page