Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 344

By Maulana Wahiduddin Khan

لیکن آپ اپنے بعد کے لئے کوئی ابن قیم پیدا نہ کرسکے۔ یہ سن کر والد صاحب مسکرائے اور بولے: میرا قیم وہاں سامنے بیٹھا ہے، جاکر زیارت فرمالیجئے (قیم سے مراد طفیل محمد صاحب تھے جو اس وقت قیم جماعت اسلامی تھے)۔ الرسالہ مشن کے بارے میں بھی بنگلور میں ایک صحافی نے مجھ سے یہی سوال کیا۔ ان کو جو جواب میں نے دیا وہ مذکورہ جواب سے بالکل مختلف تھا۔ میں نے کہا کہ الرسالہ مشن کسی فرد واحد کا شخصی مشن نہیں۔ یہ تو ایک عظیم تاریخی پر اس کا ایک جز ہے۔ یہ تاریخی پر اس خود خدا کا جاری کیا ہوا ہے، اس لئے اس پر اس کو لازماً باقی رہنا ہے۔ اور جب وہ پر اس جاری رہتا ہے جس کا ایک حقیر جز:الرسالہ مشن ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے سیاق میں مذکورہ قسم کے سوال کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ تاریخی پر اس ہے، اسلام کا احیا نو اور مساکن عالم میں ادخال کلمہ اسلام۔ ایک صاحب نے میرے اس مضمون کا حوالہ دیا جو "مسٹر نکسٹ کا عظیم رول" کے عنوان سے مختلف اخبارات میں چھپا تھا اور بعد کو الرسالہ اپریل ۱۹۹۲ میں شائع ہوا۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے فرسٹ اور نکسٹ کی اس تقسیم کے لئے اسلام کا حوالہ دیا ہے۔ حالاں کہ اسلام کا اصول تو یہ ہے کہ سارے انسان برابر ہیں (إن العباد كلهم اخوة) میں نے کہا کہ دو باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک ہے عزت و احترام، اور دوسرا ہے عملی بندوبست۔ جہاں تک عزت و احترام کا تعلق ہے، بلاشبہ تمام انسان بالکل مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر عملی بند وبست میں فرق کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس لئے مساوات کے باوجود گھر کے انتظام میں مرد کو عورت کے اوپر قوام بنایا گیا ہے۔ اسی لئے خلافت کے انتظام میں مہاجر کو امیر اور انصار کو وزیر کا درجہ دیا گیا۔ یہاں تک کہ حالات کے تقاضے کی وجہ سے اس سیاسی تقسیم پر بھی عمل نہ ہو سکا۔ چنانچہ خلیفہ ثانی حضرت فاروق نے آخر عمر میں کہا کہ ہم نے انصار کو وزیر کا درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا مگر ہم وہ درجہ بھی ان کو نہ دے سکے۔ اخلاقی حیثیت اور انسانی احترام کے اعتبار سے بلاشبہ تمام لوگ برابر ہیں۔ مگر عملی بندوبست یا اجتماعی انتظام میں کسی کو مسٹر فرسٹ اور کسی کو مسٹر نکسٹ بہر حال بننا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page