بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 345
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کا نظام چل نہیں سکتا، نہ اسلام میں اور نہ غیر اسلام میں۔ کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ۱۹۷۶ء میں الرسالہ کے ذریعہ یہ کوشش شروع کی گئی کہ حالات سے موافقت کر کے ہم کو اپنے احوال کو درست کرنا چاہئے۔ اس وقت یہ آواز مکمل طور پر اجنبی تھی۔ اس وقت ہر آدمی ایک ہی زبان بولنا جانتا تھا۔ اور وہ احتجاج اور رٹکر اؤ کی زبان تھی۔ مگر الرسالہ کے طاقت ور پیغام نے فضا کو متاثر کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اب اللہ کے فضل سے ہر طرف نئی سوچ کا آغاز واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ ۱۵ اگست ۱۹۹۲ کو یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم ہند نرسمہا راؤ نے لال قلعہ کے اسٹیج سے تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے مورے ٹوریم (Moratorium) کا اصول پیش کیا۔ یعنی باہمی جھگڑوں کو کچھ سال کے لئے بازو میں رکھ کر مثبت تعمیر کے لئے کام کرنا۔ اگست - ستمبر ۱۹۹۲ کے اولمپک (بارسلونا) میں ۴۷ ملکوں نے میڈل حاصل کئے مگر ہندوستان ۸۵ کروڑ کی آبادی والا ملک ہونے کے باوجود کوئی میڈل حاصل نہ کر سکا۔ اس کے بعد اسپورٹس منسٹر شریمیتا بنرجی کا بیان ہندوستان ٹائمس میں چھپا۔ اس میں انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی ٹیم اب چار سال کی تیاری کے بعد ہی اولمپک میں حصہ لے گی۔ یہ وہی بات ہے جس کو الرسالہ میں "وقفہ تعمیر" کے نام سے مسلسل تلقین کی جا رہی ہے۔ ۱۹۹۲ کا سال مسلمانوں کے لئے حد درجہ اشتعال انگیزی کا سال تھا۔ ایودھیا کا مسجد مندر کا جھگڑا اپنے شباب پر پہنچ گیا۔ ماضی کی روایات کے مطابق ہر طرف خون اور دنگا فساد کا منظر دکھائی دینا چاہئے تھا۔ مگر حیرت انگیز طور پر ایسا نہیں ہوا۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں نے پہلی بار یک طرفہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونے کا طریقہ اختیار کریں گے۔ بنگلور کے ایک صاحب (ڈاکٹر عطا اللہ خاں) نے ایک دو رقتہ انگریزی میں چھاپا ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں قرآنی آیتوں کی رہنمائی میں ایک تحقیق کی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر انسان کا دل جب دھڑکتا ہے تو وہ اللہ کی آواز نکالتا ہے جس کو میڈیکل سائنس نے غلط طور پر محض لب ڈب سمجھ لیا تھا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader