Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 346

By Maulana Wahiduddin Khan

موصوف نے قرآن کی جو دس آیتیں نقل کی ہیں ان کا کوئی تعلق مذکورہ مسئلہ سے نہیں ہے، حتّی کہ ان آیتوں میں ”قلب“ کا لفظ تک موجود نہیں۔ اسی طرح ایک صاحب نے راز داری کے ساتھ بتایا کہ ۷۸۷ کی نمبر پلیٹ والی کاروں کا سروے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ صدفی صد ایکسیڈنٹ پروف گنتی ہے۔ میں نے غور کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ یہ زوال یافتہ قوموں کا خاص مزاج ہے کہ وہ انوکھی باتوں کی طرف دوڑتی ہیں۔ فضائل کی پر اسرار کہانیاں، بعید از قیاس انکشافات، کچھ الفاظ میں طلسماتی اثرات فرض کر لینا، خوش گمانیوں کی بنیاد پر خیالی قلعے بنانا، یہ سب اسی کے مظاہر ہیں۔ یہ عین وہی امانی ہیں جن میں یہود قدیم زمانہ میں مبتلا ہوئے تھے۔ یہود تو اب سائنسی تعلیم حاصل کر کے ان توہمات سے نکل آئے ہیں۔ البتہ موجودہ مسلمانوں نے اب مزید اضافہ کے ساتھ ان کی جگہ لے لی ہے۔ ۳۰ جنوری کو ۲ بجے کیتھولک کلب (میوزیم روڈ) کے ہال میں سمینار کی کارروائی ہوئی مقررین کے نام یہ تھے ؛ جسٹس راما جوئس، ایم راماکرشنا، مسٹر مدھو مہتا، اور راقم الحروف۔ ان خصوصی مقررین کے بعد حاضرین کو پانچ پانچ منٹ کا وقت دیا گیا۔ کئی لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ذاتی طور پر میرا احساس یہ تھا کہ بہت کم لوگوں نے مقرر موضوع پر کوئی واضح رائے دی۔ زیادہ تر لوگوں نے غیر متعلق باتیں کہیں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ انڈیا کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پرامن نیشنلٹ مومنٹ کے ذریعہ آزادی حاصل کرلی۔ پھر اب یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ انڈیا زیر تعمیر قومیت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے نیگیٹو نیشنلزم کافی تھی۔ مگر ۱۹۴۷ء کے بعد پازیٹو نیشنلزم کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ نیشنلزم کوئی نافذ کرنے کی چیز نہیں۔ نیشنلزم تاریخی اسباب کے تحت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page