بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 347
By Maulana Wahiduddin Khan
وجود میں آنے والی چیز ہے۔ نیشنلزم کا ایک ضروری جزو زبان ہے۔ دستور ہند میں متعین کیا گیا تھا کہ آزادی کے پندرہ سال بعد انڈیا میں انگریزی کو ختم کرکے ہندی رائج کردی جائے۔ مگر آج بھی انگریزی غالب ہے۔ حتیٰ کہ انڈین نیشنلزم پر یہ سیمینار بھی انگلش میں ہورہا ہے حقیقت یہ ہے کہ ہم کوئی خود ساختہ نیشنلزم انڈیا پر نافذ نہیں کر سکتے۔ بلکہ تاریخی حالات کے مطابق اس کو اختیار کر سکتے ہیں۔ نیشن ایک تاریخی پراسس ہے، اور وہ پراسس شروع ہو چکا ہے۔ میں نے کہا کہ نیشنلزم کے کچھ کامن اجزا ہیں اور کچھ نان کامن اجزاء۔ مثلاً ملک کا سرحدی استحکام کامن کی فہرست میں آتا ہے۔ ہر ہندوستانی کو یکساں طور پر اس کا احترام کرنا چاہئے۔ مگر شادی بیاہ کے رواج کا تعلق نان کامن سے ہے۔ اس اعتبار سے کامن سول کوڈ گویا نان کامن کو کامن میں داخل کرنے کے ہم معنی ہے۔ ان دونوں پہلوؤں کو الگ الگ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ یہاں مطلوب سماج کی تعمیر کبھی ممکن نہ ہوگی۔ ہندوستانی نیشنلزم کی تعمیر کا کام قومی آزادی کی تحریک کے ساتھ شروع ہو گیا تھا۔ اس طرح اس پر اب تقریباً بیسوسال کی مدت گزر چکی ہے۔ اس کے باوجود آج بھی اس موضوع پر مباحثہ جاری ہے۔ آج بھی ہماری حیثیت زیر تعمیر قومیت (nation-in-the-making) کی ہے۔ مثال کے طور پر ۲۶ جنوری ۱۹۹۴ کو ہندوستان ٹائمنس نے ریپبلک ڈے پر جو ضمیمہ شائع کیا ہے، اس کے صفحہ اول پر اس موضوع پر لرب مضمون شامل ہے جس کا عنوان ہے: What makes India a nation. ہمارا موجودہ پینل ڈسکشن بھی خاص اسی موضوع پر ہے۔ چنانچہ اس کی جو تقسیم مقرر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستانی قومیت کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں: What constitutes Indian nationalism. قومیت کی تشکیل میں اس تاخیر کا خاص سبب یہی ہے کہ کامن اور نان کامن کے مذکورہ فرق کو ملحوظ نہ رکھا جا سکا۔ بنگلور کا یہ سیمینار لوک سوراج اندولن کے تحت کیا گیا تھا۔ یہ تنظیم ۱۹۸۶ سے کام کر رہی ہے۔ اس کے تعارفی پمفلٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ ہماری ڈیوٹی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader