Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 348

By Maulana Wahiduddin Khan

لئے زیادہ بہترانڈیا چھوڑیں ۔ انجام کا خیال چھوڑ کر ہمیں اس کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔ آخر میں درج تھا کہ گوپال کرشن گوکھلے آزادی کے لئے کام کر رہے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کی زندگی میں آزادی نہ آئی تو آپ کا کیا ہو گا۔ انھوں نے جواب دیا کہ کچھ لوگوں کو یہ سیکھنا ہے کہ انھیں ناکامیوں کے ذریعہ ایک اعلیٰ مقصد کے لئے کام کرنا ہے: Some people must learn to serve a noble cause through failures. بنگلور کے انگریزی روزنامہ دکن ہیرالڈ (۳۰ جنوری) کو پڑھتے ہوئے میں اس کے صفحہ ۳ پر پہنچا۔ اس میں ایک کالم آج شہر میں (in the city today) کے نام سے تھا۔ اس میں تقریباً چالیس اندراجات تھے۔ جنرل ، کُھول اور ریلیجس کے زیرِ عنوان بتایا گیا تھا کہ آج بنگلور میں کون کون سی میٹنگیں کس موضوع پر اور کس مقام پر ہونے والی ہیں۔ اس میں "لوک سوراج اینڈولن" کا دو پینیل ڈسکشن بھی شامل تھا جس میں شرکت کے لئے میں یہاں آیا ہوں۔ یہ تمام بڑے بڑے اخباروں کا عام کالم ہے۔ شہروں میں مختلف حلقوں کی طرف سے مختلف موضوعات پر جو علمی اجتماعات ہوتے رہتے ہیں، ان کی مختصر اطلاع ان کالموں میں روزانہ بلا اجرت چھاپی جاتی ہے۔ ہمارے لئے اس کالم کے دو خاص فائدے ہیں۔ اگر ہم خود اس قسم کا اجتماع کر رہے ہوں تو ہم اس کی خبر رسانی کے لئے اس کالم کو استعمال کر سکتے ہیں ۔ یا اس کے ذریعے دوسروں کے اجتماعات سے باخبر ہو سکتے ہیں تاکہ وہاں جا کر لوگوں سے ملیں اور اپنا نقطہ نظر لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں مسلمانوں کے تعلیم یافتہ اور باشعور افراد کے لئے موجودہ زمانہ میں جو مواقع دعوت کھلے ہیں ان میں سے ایک بلاشبہ یہ بھی ہے۔ ایک صاحب نے کراچی کے اردو میگزین تکبیر کا شمارہ ۴ جنوری ۱۹۹۰ دکھایا۔ اس میں پاکستان کے ہندوؤں کے بارہ میں ایک رپورٹ تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے ہندوؤں نے تعلیم کے میدان میں اپنے دور رفت کو دوبارہ نئے پاکستان میں حاصل کر لیا ہے۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ انھوں نے یہاں کے اداروں اور تحریکوں میں دامے درمے سخنے حصہ لے کر خود کو ہر قسم کی نفرت اور امتیاز ی برتاؤ سے محفوظ بنا لیا۔ دوسری طرف انھوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page