بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 349
By Maulana Wahiduddin Khan
نے انجینئرنگ اور میڈیکل تعلیم میں مسلمانوں سے زیادہ محنت کی۔ اس طرح انھوں نے سندھ میں اپنے عددی تناسب سے زیادہ فائدہ حاصل کر لیا (صفحہ ۷۱) رپورٹر نے اس کو ہندو سازش سے تعبیر کیا تھا۔ اگر ان کے اندر مثبت ذہن ہوتا تو وہ اس واقعہ میں حکمت حیات کا سبق پالیتے۔ مگر اپنے منفی ذہن کی بنا پر وہ اس میں صف نفرت حیات کی خوراک پاسکے ــــــ ہندوستان اور پاکستان کے مسلم پریس کی یہی وہ بنیادی کمزوری ہے جس کی بنا پر یہ پریس مسلمانوں کے لئے کوئی تعمیری رول ادا کرنے میں سراسر ناکام رہا۔ مولانا سید کمال احمد صاحب ملٹری مسجد میں ۱۹۷۰ء سے امام ہیں۔ برٹش دور سے یہاں کے امام کو گورنمنٹ آف انڈیا سے تنخواہ ملتی ہے۔ ۳۰ جنوری کی شام کو ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ۴ سال کے اندر کبھی بھی مجھ کو کوئی ہدایت گورنمنٹ کی طرف سے نہیں آئی۔ کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ تم خطبہ میں یہ کہو یا وہ کہو۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ مسلم فوجیوں کو دین کی باتیں بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے خطبہ یوں میں اختلافات سے ہٹ کر بات کرتا ہوں۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ ٹی وی رکھنا جائز ہے یا نا جائز۔ انھوں نے کہا کہ ٹی وی کو سلمان بنا کر رکھو۔ ۳۰ جنوری کی شام کو جناب تمیز الدین صاحب کے یہاں شام کی چائے پر ایک اجتماع ہوا۔ تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان اس میں شریک ہوئے۔ مسٹر مدھو مہتا (بمبئی) دسمبر ۹۳ میں فلپائن گئے تھے۔ وہاں وہ تین ہفتہ رہے۔ انھوں نے بتایا کہ فلپائن نہایت خوبصورت اور پر امن دیش ہے۔ مگر وہاں عیسائی اور مسلمانوں کا جھگڑا چھڑ گیا۔ میرے زمانہ قیام میں وہاں ایک چرچ میں بم پھٹا۔ اس کے بعد مسجد میں بم پھٹا۔ کئی معصوم لوگ اس کے شکار ہوئے۔ فلپائن کے جنوبی علاقہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اس علاقہ میں کچھ جذباتی قسم کے مسلم نوجوانوں نے آزاد مسلم ریاست کی تحریک شروع کر دی۔ یہ سراسر ایک نادانی کا فعل تھا۔ حکومت نے اس کو شدت کے ساتھ دبانا شروع کیا۔ اب جلد ہی وہ مسلم دنیا میں جہاد کے ہم معنی ہو گیا۔ یہ تحریک اب ناکام ہو چکی ہے۔ تاہم مذکورہ قسم کے واقعات کے ذریعہ کچھ لوگ محض ذاتی مقاصد کی خاطر اس کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ میں اس کو بالکل غیر عقلی اور غیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader