بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 350
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی فعل سمجھتا ہوں کہ جس ملک کے کسی علاقہ میں مسلمانوں کی علاقائی اکثریت ہو وہاں فوراً علیحدگی کی تحریک چلادی جائے۔ اس قسم کی تحریکوں نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو بدنام کیا ہے اور مسلمانوں کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے۔ آج کے اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ مسلم علیحدگی پسند جنگجوؤں نے فلپائن کی حکومت سے جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا ہے۔ اس جنگ میں پچھلے ۳۰ سال کے دوران ۵۰ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مورو نیشنل لبریشن فرنٹ نے مسلمانوں کی طرف سے اس معاہدہ پر دستخط کئے (سالار ۳۱ جنوری ۱۹۹۴ء) ۳۰ جنوری کے انڈین ایکسپریس میں یہ خبر پڑھی کہ ایئر انڈیا اور انڈین ایئر لائنز کے بارے میں ہماری حکومت نے ایک نیا آرڈی ننس جاری کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں کھلے آسمان کی پالیسی انڈیا میں پورے طور پر اختیار کرلی گئی ہے۔ اس خبر کا عنوان تھا : Monopoly goes, open sky policy comes into force. اس آرڈی ننس کے بعد ایئر انڈیا اور انڈین ایئر لائنز کی حیثیت سرکاری کارپوریشن کی نہیں رہی بلکہ عوامی کمپنی کی ہوگئی ہے۔ اب کوئی بھی شخص ان کے شیئر خرید سکتا ہے۔ گویا کہ اب اس بات کا دروازہ کھل گیا کہ دونوں سرکاری ادارے پرائیویٹ کمپنیوں کی طرح عام کمپنی بن کر رہ جائیں۔ ۱۹۷۲ء سے پہلے انڈیا میں فضائی پرواز کا ادارہ ایک پرائیویٹ ادارہ تھا جس کو ٹاٹا نے قائم کیا تھا۔ آزادی کے بعد جو لوگ ملک کے سیاسی حکمراں بنے وہ سوشلسٹ افکار سے متاثر تھے۔ انھوں نے تمام اقتصادی اداروں کو سرکاری ملکیت میں لینا شروع کیا جس کا خوب صورت نام نیشنلائزیشن تھا۔ مگر ۴۵ سالہ تجربہ نے بتایا کہ نیشنلائزیشن کی پالیسی نے ملک کو تباہی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچایا۔ چنانچہ اب یہ پالیسی تیزی سے بدلی جارہی ہے۔ نظریاتی خوش فہمی کے تحت ہر چیز کو بدلنے کا یہ ذہن موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں میں بھی شدت سے پایا جاتا ہے۔ مگر یہ جنون کے سوا اور کچھ نہیں۔ صحیح فطری طریقہ یہ ہے کہ مروجہ ڈھانچہ کو باقی رکھا جائے ۔ ڈھانچہ کو توڑنے کے بجائے سارا نر و اقدار (values) کو قائم کرنے پر صرف کیا جائے ۔ اسی اصول پر چل کر موجودہ زمانہ میں سنگاپور، کوریا اور جاپان نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader