بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 351
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑی بڑی ترقییاں حاصل کی ہیں۔ جب کہ ہندوستان آج بھی 'ہنوز روز اول' کے مقام پر پڑا ہوا ہے۔ ایک مبصر نے اس معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بجاطور پر کہا: ٣٠ نومبر کو جناب تمیز الدین صاحب کے مکان پر کچھ تعلیم یافتہ افراد اکٹھا ہوئے۔ ان سے دیر تک ملی مسائل پر گفت گو ہوئی۔ انجینرنگ کے ایک طالب علم نے کہا کہ میں آپ کا الرساله پڑھتا ہوں الرساله کو جب میں پڑھتا ہوں تو اس سے میرے اندر دعوت کے جذبات بیدار ہوتے ہیں۔ مگر جب میں مسلمانوں کے دوسرے اخبار اور رسالہ کو پڑھتا ہوں تو میرے اندر عداوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ میں کنفیوز ہو جاتا ہوں کہ آخر اسلام یہ ہے یا وہ ہے۔ میں نے کہا کہ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ میں دوسری قوموں کو مدعو کی نظر سے دیکھتا ہوں اور عام مسلم اخبار اور رسالے دوسری قوموں کو حریف کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ یہ قومیں ہمارے لئے جہاد (یعنی جنگ) کا موضوع نہیں بلکہ صرف دعوت کا موضوع ہیں۔ دوسری قوموں کے بارہ میں ہمارا رویہ کیا ہو، اس کا انحصار اس پر ہے کہ ہم ان کو کیا حیثیت دیتے ہیں۔ اگر آپ مدعو کی حیثیت دیں تو ان کے بارہ میں آپ کے اندر خیر خواہی پیدا ہوگی اور اگر آپ ان کو حریف سمجھ لیں تو ان کے بارہ میں آپ کے اندر نفرت اور عداوت کے جذبات پیدا ہو جائیں گے۔ بنگلور میں ۳۰ جنوری کو مسلمانوں کا ایک سیمینار تھا۔ اس کی رپورٹ مقامی اخبار سالار (۳۱ جنوری) میں اس دوسری عنوان کے ساتھ چھپی: کرناٹک مسلم گریجویٹس ایسوسی ایشن کا فلائنگر سیمنار ، کرناٹک تعلیمی ایکٹ کی اقلیتی ادار وں پر راست ضرب. یہ سیمنار دراصل ایک احتجاجی سیمینار تھا۔ اس میں کہا گیا کہ کرناٹک تعلیمی ایکٹ ۱۹۸۳ دستور ہند میں اقلیتوں کو دئے گئے تحفظات پر ایک حملہ ہے ۔ وہ مسلمانوں کے قائم کئے ہوئے تعلیمی اداروں میں حکومت کو مداخلت کا حق دیتا ہے۔ اس لئے مسلم تعلیمی اداروں کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader