Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 352

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی تحفظاتی سیاست مسلمانوں کے رہنما اور دانش ور پچھلے پچاس سال سے پورے ملک میں چلا رہے ہیں۔ میں اس قسم کی سیاست کو بے فائدہ سمجھتا ہوں۔ ۱۹۴۷ء کے بعد بننے والے دستور میں مسلمانوں کو اقلیت کے نام پر واضح قانونی تحفظ دیا گیا۔ جبکہ امریکہ کی یہودی اقلیت کو کسی بھی قسم کا دستوری تحفظ حاصل نہیں۔ مگر پچھلے ۵۰ سال میں مسلمان خود اپنے اعلان کے مطابق صرف پیچھے کی صف میں چلے گئے۔ جب کہ اسی مدت میں امریکہ کی یہودی اقلیت نے وہاں صف اول میں اپنے لئے جگہ حاصل کرلی۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مسلم لیڈروں نے تحفظ کے ذریعہ اپنی قوم کو سنبھالنا چاہا۔ جب کہ یہودی لیڈروں نے اپنی قوم کو چیلنج کے طوفان میں ڈال دیا۔ اور فطرت کا اصول اور تاریخ کا تجربہ دونوں بتاتے ہیں کہ تحفظ کے ماحول میں انسان کی ترقی رک جاتی ہے، جب کہ چیلنج کا ماحول انسان کی اعلیٰ صلاحیتوں کو جگہ دیتا ہے اور اس کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ زمین پر انسانی زندگی کے بارے میں قرآن کا بیان ہے کہ یہاں لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے (بعضکم لبعض عدو)، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں وہ چیلنج کے ماحول میں زندگی گزارینگے یہاں لوگوں کے درمیان مقابلہ آرائی ہوگی۔ اس دنیا کے خالق نے چیلنج اور مقابلہ آرائی کو اس کی ترقی کا زینہ بنایا ہے۔ مسلمانوں کے نادان رہنماؤں کو یہ خدائی زینہ پسند نہیں۔ وہ اس کے بجائے تحفظاتی زینہ کے ذریعہ مسلمانوں کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ مگر انھیں جاننا چاہئے کہ اس دنیا میں خدائی زینہ کے سوا کوئی اور زینہ نہیں۔ جو لوگ کسی خود ساختہ زینہ کے ذریعہ آگے بڑھنا چاہیں وہ یہاں صرف پچھلی سیٹ پر جگہ پائیں گے، اس کے سوا ان کا کوئی اور انجام نہیں۔ مقامی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر مسٹر میش چندرا ۳۱ جنوری کی دوپہر کو میری قیام گاہ پر آئے۔ وہ مجھ کو اپنے ساتھ لے گئے اور بنگور کے اپنے کچھ ادارے دکھائے۔ ان کے ساتھ پہلے تو آرایس ایس کے ادارہ (Rashtrotthana Parishad) میں گئے۔ یہ ایک تعمیری ادارہ ہے۔ اس کے ایک درجن شعبے ہیں۔ وہ ابتدائی اسکول چلاتے ہیں۔ انھوں نے فری میڈیکل سنٹر، بلڈ بینک، ٹیلرنگ ٹریننگ سنٹر اور اس قسم کے کئی رفاہی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ ان کی چھ منزلہ بلڈنگ کی ایک منزل پر جدید طرز کی لائبریری قائم ہے۔ ان کے مختلف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page