Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 353

By Maulana Wahiduddin Khan

شعبوں کو دیکھا اور ان کے ذمہ داروں سے باتیں کیں۔ مسٹر رتیش چندرانے کہا کہ آر ایس ایس کا مقصد دیش کے ہر طبقہ کو زندگی کے ہر شعبے میں اوپر اٹھانا ہے۔ اس کے بعد ہم لوگ ایک اور بلڈنگ میں گئے۔ یہ آر ایس ایس کا اسٹیٹ ہیڈ کوارٹر ہے یہاں ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ کنٹراویکلی وکرم کے ایڈیٹر (B.S.N. Mallya) نے سوال و جواب کی صورت میں تفصیلی انٹرویو لیا۔ بنگلور سے نکلنے والے ایک اور کنٹرا ہفت روزہ پنگوکا (Pungava) کے ایڈیٹر نے پرچہ کا ایک شمارہ دیا۔ اس میں انھوں نے میرا ایک مضمون ٹائمز آف انڈیا سے لے کر اس کا ترجمہ کنٹر زبان میں شایع کیا تھا۔ دوپہر کا کھانا مجھے مسٹر عباس علی بوہرہ کے یہاں کھانا تھا۔ مگر مذکورہ اسٹیٹ ہیڈ کوارٹر کے لوگوں کے اصرار پر دن کا کھانا نہیں کھایا۔ ایک بڑے کمرہ میں ہم لوگ داخل ہوئے۔ یہاں چھوٹی چھوٹی چٹائی پر ہر ایک کے لئے الگ تھالی رکھی ہوئی تھی۔ اس تھالی میں کھانا رکھ لگیا۔ ہر چیز بالکل سادہ انداز میں تیار کی گئی ۔ کھانا شروع کرنے سے پہلے ایک صاحب نے سنسکرت کے کچھ اشلوک پڑھے۔ اس کا مطلب تھا : ہم لوگ ایک ساتھ جئیں ۔ ایک ساتھ کھائیں ۔ ایک ساتھ مل کر دیش کو بڑھائیں۔ ایک ملاقات میں ممبئی کے مسٹر ارووندیش پانڈے نے ایک مغربی مصنف پیٹر ڈر کوز (Peter Drue Koz) کی کتاب کا ذکر کیا۔ وہ کمیونزم کے موضوع پر اٹھارٹی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ کمیونزم کیوں فیسل ہو گیا۔ اس سلسلہ میں اس نے لکھا ہے: “Communism as a system had its heroes but Marxism as a creed did not have any saints.” مقامی انگریزی روزنامہ دکن ہیرالڈ (۳۱ جنوری ۱۹۹۲) میں مارک ٹوین (Mark Twain) کا ایک قول نقل کیا گیا تھا کہ انسانی زندگی کا نصف اول صلاحیت بغیر مواقع پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کا نصف آخر مواقع بغیر صلاحیت پر: The first half of life consists of the capacity to enjoy without the chance; the last half consists of the chance without the capacity. اس کو پڑھ کر میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اصل یہ ہے کہ مواقع تو ہمیشہ آدمی کے لئے موجود ہوتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page