Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 354

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ مگر جوانی کی عمر میں آدمی زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ اس طرح وہ اپنے نصف اول کو ضائع کر دیتا ہے۔ زیادہ عمر کو پہنچ کر اس کے اندر سنجید گی آتی ہے۔ مگر اب اس کی طاقتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری محنت کر سکے۔ اس طرح اپنی عمر کے دونوں حصوں کو وہ کھو دیتا ہے۔ مسٹر عباس علی، لو ہیرہ بنگلو رکے ایک نوجوان تاجر ہیں۔ انھوں نے اپنا طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں ہر فرقت کے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ ملنے کی کوشش کرتا ہوں تا کہ فرقہ وارانہ دوری ختم ہو ۔ انھوں نے کہا کہ جب تک آپ دوسروں کو نہیں اپنائیں گے ۔ دوسرا بھی آپ کو نہیں اپنائے گا۔ مہاتما گاندھی کے ایک عقیدت مند سے ملاقات ہوئی ۔ ۱۹۳۰ء میں مہاتما گاندھی کے ۲۰۰ میل لمبے سالٹ مارچ کے وقت وہ اسکول کے طالب علم تھے۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کا کہنا تھا کہ ہندوستانی تہذیب خود یورپ کے لئے رہنما تہذیب بن سکتی ہے۔ ہم کو یورپی تہذیب سے مرعوب نہ ہو کر خود اپنی روایات پر انڈیا کی تعمیر نو کرنا چاہئے۔ مہاتما گاندھی نے ۱۹۲۶ میں لکھا تھا: India is in danger of losing her soul. She must be strong enough to resist it for her own sake and that of the world. میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی ۲۵ سال سے زیادہ عرصہ تک انڈیا کے واحد سب سے بڑے لیڈر بنے رہے۔ ان کے قتل کے بعد بھی ان کے تربیت یافتہ افراد مسلسل انڈیا کی قسمت کے مالک بنے ہوئے تھے۔ اس لحاظ سے تقریباً ۷۰ سال تک انڈیا کے اوپر براہ راست یا بالواسطہ طور پر گاندھی کی مکمل حکمرانی قائم رہی۔ ایسی حالت میں کیوں ایسا ہے کہ انڈیا آج بھی اپنی روح کو کھونے کے خطرہ سے دو چار ہے۔ وہ غالب تہذیب کے بجائے مغلوب تہذیب بن کر رہ گیا ہے۔ اس لئے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ گاندھی کیا چاہتے تھے۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ گاندھی جو کچھ چاہتے تھے ، اس کو وہ ساری کوشش کے باوجود کیوں بالفعل واقع بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page