بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 355
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں میری ملاقات مسٹر رام اوتار گپتا سے ہوئی۔ وہ نہایت سنجیدہ آدمی ہیں۔ بنگلور اور بمبئی میں ان کا بڑا کاروبار ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ انڈیا کی قومی ترقی میں خاص رکاوٹ آپ کے نزدیک کیا ہے۔ انھوں نے فورا جواب دیا : خود غرضی۔ اسی طرح ایک اور صنعت کار سے میں نے پوچھا کہ سنگاپور اور جاپان جیسے ملک اتنی ترقی کریں گے جن کے وسائل بہت زیادہ محدود ہیں۔ انڈیا کے پاس ہر قسم کے وسائل موجود ہیں مگر وہ ترقی نہ کر سکا۔ اس کا خاص سبب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیورو کریسی۔ دونوں جواب کا خلاصہ ایک ہی ہے۔ کیوں کہ وہ برائی جس کو بیورو کریسی کہا جاتا ہے وہ بھی اسی خود غرضانہ ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی ترقی کے لئے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ذاتی مفاد کے جذبے سے اوپر اٹھایا جائے کیونکہ یہ دراصل بڑھی ہوئی مفاد پرستی ہی ہے جس نے ہندوستان کی ترقی کو روک رکھا ہے۔ نسرین سید (اہلیہ جناب تمیز الدین صاحب) اردو کے علاوہ عربی، انگریزی اور فرنچ بھی بخوبی جانتی ہیں۔ ان کے ماموں کا انٹرنیشنل بزنس ہے ، اس بزنس میں وہ ان کی ایشیائی نمائندہ ہیں۔ وہ مارکٹنگ کا خاص تجربہ رکھتی ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ کامیاب مارکٹنگ کا خاص راز کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اپ ڈیٹ ٹکنالوجی : Marketing a product basically requires updated technology, worldwide competitive price, versatility on a wide range of usages plus a service back up along with a guidance of installation procedures. ۳۱ جنوری کی شام کو جناب تمیز الدین صاحب کے ساتھ ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ راستہ میں مختلف اسلامی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت عائشہ کے ساتھ پوری عالم انسانیت کے لئے عظیم رحمت تھا۔ عائشہ نہایت ذہین تھیں ۔ ان کے اندر اخذ کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ وہ رسول اللہ کے ساتھ رات دن اور سفر اور حضر میں موجود رہیں۔ انھوں نے نہایت گہرائی کے ساتھ آپ کو دیکھا اور طریقہ رسول کے بارہ میں ایسی قیمتی باتیں بتائیں جو کسی اور صحابی سے بہت کم ملتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader