Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 356

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ کو جب بھی دو میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب فرماتے تھے (ما خیر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اختار ايسرهما) اس دنیا میں آدمی کے لئے ہر معاملہ میں دو صورت ہوتی ہے۔ ایک آسان تر انتخاب (easier option) اور دوسرا مشکل تر انتخاب (harder option) عائشہ کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہمیشہ آسان تر کا انتخاب فرماتے تھے۔ یہ بڑی زبردست حکمت کی بات ہے کیونکہ آسان تر کا انتخاب کرتے ہی فی الفور آپ کو اپنے عمل کے لئے نقطہ آغاز مل جاتا ہے۔ جبکہ مشکل ترکا انتخاب کرنے کی صورت میں آپ کو اپنے عمل کے لئے کوئی نقطہ آغاز نہیں ملتا۔ بنگلور سے دہلی کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ہم بم کے ذریعہ روانگی ہوئی ۔ بنگلور جاتے ہوئے جہاز دو گھنٹہ لیٹ تھا۔ مگر واپسی میں جہاز اپنے وقت پر روانہ ہوا۔ اور جہاز جب روانگی کے مقام سے ٹھیک وقت پر روانہ ہو تو وہ منزل پر بھی ٹھیک وقت پر پہنچتا ہے کیوں کہ راستہ میں اس کو وہ رکاوٹیں پیش نہیں آتیں جو سڑک کے سفر میں کسی سواری کو پیش آتی ہیں۔ راستہ میں دکن ہیرالڈ (۳۱ جنوری) کا ایک مضمون پڑھا۔ اس کا عنوان تھا ـ ۲۱ ویں صدی میں داخلہ (Stepping into the 21st century) عنوان کافی جاذب تھا۔ مگر اس کے اندر کوئی قابل ذکر بات نہیں ملی۔ موجودہ زمانہ کی صحافت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شاندار سرخی کے تحت غیر شاندار مضمون۔ اس کی وجہ غالب آ یہ ہے کہ شاندار سرخی قائم کرنے کے لئے تو صرف زبان دانی کافی ہے۔ جب کہ شاندار مضمون لکھنے کے لئے کافی محنت کرنا نہایت ضروری ہے۔ اور یہ دوسری چیز بلاشبہ ہماری قومی زندگی میں سب سے زیادہ کمیاب ہے۔ ۳۱ جنوری ۱۹۹۲ کی شام کو ساڑھے نو بجے جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اترا گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page