بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 362
By Maulana Wahiduddin Khan
بے شمار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قوموں کے جہاز کو چلانے کے لیے اٹھتے ہیں۔ وہ نادانی کے جوش میں قوم کے جہاز کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں۔ ایک مدت کے بعد جب نتائج بتاتے ہیں کہ انھوں نے غلط رخ پر قوم کو دوڑا دیا تھا تو کہتے ہیں کہ روکو روکو۔ حالاں کہ درمیان میں رکن قوم کے لیے تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ دہلی سے انڈین لائنز کی فلائٹ ۴۶۹ صم کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں ایک ہندی اور ایک انگریزی اخبار دیکھا۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۵ اپریل) کے صفہ اول پر یہ خبر تھی کہ امریکہ نے خود اپنے ہیلی کاپٹر مار گرائے : US downs own copters ۱۴ اپریل کو امریکہ کے دو جہاز (mission of mercy) عراق کے کرد علاقہ پر پرواز کر رہے تھے ۔ وہ کردوں کی مدد کے لیے گئے تھے۔ مگر امریکہ کے جنگی جہاز (16-F) کے عملہ نے یہ سمجھا کہ یہ عراق کے جہاز ہیں جو ممنوع علاقہ (no fly zone) پر اُڑ رہے ہیں۔ انھوں نے فائر کر کے خود اپنے دو ہیلی کا پٹر مار کر گرادیے۔ اس حادثہ میں ۲۶ آدمی ہلاک ہو گئے ۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے اس پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جان دے دی : They lost their lives while trying to save the lives of others. یہ واقعہ اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ انسان کا علم کتنا زیادہ ناقص اور کتنا زیادہ محدود ہے۔ ۱۵ اپریل کو ۲ بجے دن میں ہمارا جہاز ناگپور ایر پورٹ پر اترا گیا۔ یہاں لوگوں نے آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر میں قیام کا انتظام کیا تھا۔ ان کی طرف سے کئی افراد ایر پورٹ پر آئے تھے۔ مگر میں جناب محمد حنیف صاحب اور جناب عبد السلام اکبانی صاحب کے ساتھ ان کے گھر چلا گیا۔ یہاں کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد شام کو چار بجے ہم لوگ ملاقات کے لیے نکلے۔ سب سے پہلے ہم آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر (ریشم باغ) گئے ۔ یہاں کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ بھگت جی آر ایس ایس کے پرانے آدمی ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر ہیڈ گیوار ( بانی آر ایس ایس) کے بارہ میں کچھ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نو جوانی کی عمر میں پرجوش انقلابی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader