Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 363

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے ۔ انہوں نے ایک بار سرنگ لگا کر ایک سرکاری عمارت سے یونین جیک اتار دیا تھا۔ وہ کانگریس کے ایکٹو ممبر تھے۔ پھر ان کی سمجھ میں آیا کہ موجودہ حالت میں اگر ہم آزادی حاصل بھی کر لیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ پہلا کام ہمیں کیر کڑ بلڈنگ کا کرنا ہے۔ قوم کے افراد میں اگر یکسر کر آ جائے تو وہ آزادی کا صحیح استعمال کریں گے اور پھر آزادی پوری طرح بامعنی ہو جائے گی۔ ڈاکٹر صاحب نے کیر کڑ بلڈنگ کے اسی نظریہ کے تحت آر ایس ایس قائم کی۔ یہی بات مسٹر گادرے نے اس سے پہلے مجھ کو بتائی تھی۔ مسٹر گادرے (۸۰ سال) دہلی میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نوجوانی کی عمر ہی میں آر ایس ایس کی تنظیم سے وابستہ ہو گیا تھا، اس وقت میں پونہ میں پڑھ رہا تھا۔ ایک روز ڈاکٹر ہیڈ گوار ہمارے اسکول میں آئے۔ آر ایس ایس سے متعلق نوجوان جمع ہوئے تو انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پونہ کی سڑک پر اگر ایک مسلمان عورت تانگہ پر نکلتی ہے۔ اور ایک ہندو لڑکا مسلمان عورت کو چھیڑتا ہے۔ اس وقت آپ کیا کریں گے۔ پھر انھوں نے خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت آپ کی یہ لاٹھی ہندو لڑکے کے اوپر پڑے گی۔ یہی آر ایس ایس کی تعلیم ہے ۔ اس کے بعد ڈاکٹر ہیڈ گوار بھون جانا ہوا۔ یہ آر ایس ایس کا قدیم مرکز ہے۔ یہاں آر ایس ایس کی تاریخ سے تعلق رکھنے والی بہت سی یادگاری چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ ان کو تفصیل سے دیکھا اور کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ اسی بلڈنگ کے ایک حصہ میں بالا صاحب دیور س مقیم تھے۔ چنانچہ ہم لوگ ان سے ملاقات کے لیے ان کے خاص کمرہ میں گئے۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور اپنے دونوں پاؤں سامنے رکھے ہوئے ایک چھوٹے اسٹول پر پھیلائے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ فالج کی وجہ سے ان کا ایک ہاتھ اور پاؤں بے کار ہو گیا ہے ۔ وہ بول بھی نہیں سکتے ۔ سائیں سائیں جیسی آواز میں تھوڑا تھوڑا بولتے ہیں۔ اپنا کان ان کے منہ کے قریب لے جا کر سننا پڑتا ہے۔ مفلوج ہونے کے بعد اس معذوری کی بنا پر انھوں نے آر ایس ایس کے سرینچلک کا عہدہ چھوڑ دیا اور اپنی جگہ پر ولیس راجندر سنگھ کو سر سنچالک نامزد کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page