Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 364

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی اخبار میں میں نے پڑھا تھا کہ آر ایس ایس کے چیف کی اس تبدیلی میں سیاست کارفرما ہے۔ اس نے اسے یو پی اور دوسری ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی شکست سے جوڑا تھا۔ مگر بالا صاحب دیورس کو دیکھنے کے بعد مجھے یہ بات بالکل بے بنیاد معلوم ہوئی۔ انھوں نے آر ایس ایس کے چیف کا عہدہ معذوری کی بنا پر چھوڑا ہے نہ کہ کسی سیاست کی بنا پر ــــ اخبارات بھی کیسی عجیب عجیب غلط فہمیاں لوگوں میں پیدا کر دیتے ہیں۔ واپسی میں ہم لوگ جناب محمد حنیف صاحب کے دفتر میں گئے۔ یہاں کئی ہندو اور سکھ جمع ہو گئے ۔ ان میں سے ایک انبالہ کے پر وفیسر سکھ نندن سنگھ تھے۔ محمد حنیف صاحب کی میز پر محمد عمر چھاپرا کی کتاب رکھی ہوئی تھی جو اسلامک فاونڈیشن لندن سے چھپی ہے : Towards a Just Monetary System سکھ نندن سنگھ معاشیات کے استاد ہیں۔ انھیں اس کے نام سے دل چسپی ہوئی اور کتاب اٹھا کر اس کو دیکھنے لگے۔ کچھ صفحات پڑھ کر ان کی زبان سے بے اختیار نکلا یہ کتنی دل کش ہے : It's so fascinating. ناگپور میں آر ایس ایس کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہ تنظیم ۱۹۲۵ میں قائم ہوئی۔ ڈاکٹر ہیڈ گوار اس کے بانی صدر تھے ۔ ۱۹۴۱ میں ڈاکٹر ہیڈ گوار کا انتقال ہوا۔ اس کے بعد گور و گولوا کر اس کے صدر مقرر ہوئے۔ ۱۹۷۳ میں گور و گولوا کر کے انتقال پر بالا صاحب دیورس اس کے صدر بنائے گئے۔ بالا صاحب دیورس جن کی عمر ۸۰ سال ہو چکی ہے، انھوں نے ۱۹۹۴ میں صدارت سے استعفادے دیا۔ اب پروفیسر را جندر سنگھ (رجو بھیا ) آر ایس ایس کے صدر مقر ر کیے گئے ہیں ۔ یہ لوگ صدر کو سر سنگھالک کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ترجمان " دعوت " نے شکایت کی تھی کہ آر ایس ایس ایک نیم فوجی تنظیم ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو جماعت اسلامی کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ جماعت اسلامی کا نظریہ بزور نظام باطل کو ختم کرنا ہے۔ اس اعتبار سے جماعت اسلامی خود بھی عسکری نظریہ پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی موقع ملتا ہے، اس کے افراد فوراً اعلیٰ عسکریت کا انداز اختیار کر لیتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہیے کہ انتہا پسندی فطرت کے خلاف ہے، اس لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page