Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 365

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر انتہا پسند تحریک کا انجام یہ ہوتا ہے کہ بعد کے زمانہ میں وہ عام قسم کی ایک معتدل جماعت بن کر رہ جاتی ہے ۔ ۱۹۹۳ء کو جب میں پہلی بار آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر (ناگپور) میں گیا۔ اس کو قریب سے دیکھا اور وہاں کے لوگوں سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں تو اندازہ ہوا کہ آر ایس ایس، کم از کم آج ، ایک سادہ اور معتدل جماعت ہے۔ جو لوگ دور سے آر ایس ایس کے بارہ میں متشددانہ خیالات رکھتے ہیں وہ یہاں اگر قریب سے اس کو دیکھیں تو اپنے آپ ان کے خیالات بدل جائیں گے۔ آر ایس ایس کے موجودہ سربراہ ر جو بھیا نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک انٹرویو دیا تھا۔ یہ انٹرویو دہلی کے ایک اردو ہفت روزہ میں چھپا تھا۔ انٹرویو کا ایک حصہ مسلمانوں کے بارہ میں تھا۔ اس کو ناقدانہ انداز میں لیتے ہوئے اخبار نے اس کی سرخی اس طرح بنائی تھی: مسلمان ہمیشہ حکومت کے بھروسے نہیں رہ سکتے ، اس ملک میں تو انھیں ہند و سماج سے مل کر ہی رہنا ہوگا (۱۴ اپریل ۱۹۹۴) ایک صاحب سے میں نے کہا کہ راجو بھیا کی اس بات پر برا ماننے کی ضرورت نہیں۔ یہ تو زندگی کا ایک اصول ہے۔ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ کسی بھی ملک میں جہاں کوئی کمیونٹی اقلیت کی حیثیت رکھتی ہو، اس کو اکثریتی فرقہ سے مل جل کر ہی رہنا ہے۔ اس کے سوا زندگی کا اور کوئی طریقہ نہیں۔ سندھ میں مہاجرین نے یہ غلطی کی کہ وہ سندھیوں سے مل جل کر نہیں رہے۔ اگر چہ دونوں ہی مسلمان تھے مگر دونوں میں اتنی تلخی پیدا ہوئی کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ یہی معاملہ بنگلہ دیش میں پنجابی مسلمانوں اور بنگالی مسلمانوں کے درمیان پیش آیا۔ بظاہر آر ایس ایس کے بانی ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈ گیوار ہیں۔ مگر اسلامی اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کے قیام کی ذمہ داری ان نااہل مسلم لیڈروں پر آتی ہے جنھوں نے غیر ضروری طور پر ضد اور مخالفت کی سیاست چلا کر ہند و احیا پرستی کو خوراک فراہم کی۔ ناگپور میں ستمبر ۱۹۲۳ میں گنیش پوجا کا سالانہ جلوس نکلنے والا تھا۔ مسلم رہنماؤں نے روٹ بدلنے اور مسجد کے سامنے باجا نہ بجانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں تناؤ پیدا ہوا۔ چنانچہ ڈسٹرکٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page