Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 366

By Maulana Wahiduddin Khan

کلکٹر نے حالات کو دیکھتے ہوئے جلوس کو روک دیا۔ اس وقت ہندوؤں نے پابندی کو قبول کر لیا۔ مگر ۳۰ اکتوبر ۱۹۲۳ کو دوبارہ ڈنڈی جلوس کا مسئلہ پیدا ہوا جو ایک ہندو دیوتا کے نام پر باجے اور گانے کے ساتھ نکلنے والا تھا۔ مسلمانوں کے سخت رد عمل کو دیکھ کر کلکٹر نے دوبارہ اس کی اجازت نہیں دی۔ ہندوؤں نے پابندی کے آرڈر کو نہ ماننے کا فیصلہ کیا۔ بیس ہزار ہندو اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے، اس کے بعد جو حالات پیدا ہوئے اس کا نتیجہ ہندو مہاسبھا کا قیام تھا۔ اس وقت اس سبھا کے صدر ڈاکٹر بی ایس مونجے اور سکریٹری ڈاکٹر ہیڈ گیوار بنائے گئے۔ ڈاکٹر ہیڈ گیوار اور دوسرے لیڈر ہندوؤں سے کہتے تھے کہ تم اپنا جلوس شان کے ساتھ نکالو۔ مسجد کے سامنے باجا بند کرنے کی بزدلی نہ دکھاؤ۔ ناگپور کے اسی فرقہ وارانہ کشیدگی کے ماحول میں آر ایس ایس کی فکری بنیادیں تیار ہوئیں۔ یہاں تک کہ ستمبر ۱۹۲۵ میں دسہرہ کے موقع پر آر ایس ایس کا قیام عمل میں آیا۔ اسلامی شریعت میں ایسا کوئی حکم نہیں کہ مسجد کے سامنے سے غیر مسلموں کا جلوس نہ نکلے یا باجانہ بجایا جائے۔ اس قسم کے جلوس پر مشتمل ہونا یا اس کو وقار کا سوال بنانا سراسر جاہلیت ہے۔ مگر نااہل مسلم رہنماؤں نے اسی لایعنی سیاست میں انھیں الجھا رکھا ہے۔ اس نام نہاد سیاست کا بیک وقت دو نقصان ہے ــــــــــ ایک، ہندوؤں میں غیر ضروری طور پر مسلم مخالف جذبات کا پیدا ہونا۔ دوسرے، مسلمانوں کے اندر منفی سوچ ابھرنا اور اس کے نتیجہ میں تعمیری کاموں سے ان کا دور ہو جانا۔ اردو اخبارات میں جب بھی میں کوئی "رپورٹ" پڑھتا ہوں تو میں اپنے دل میں کہتا ہوں کہ یہ رپورٹ نہیں ہے، یہ تو رائے زنی ہے، اردو صحافت جیسے کہ غیر جانبدارانہ رپورٹنگ سے واقف ہی نہیں۔ مگر خدا کے فضل سے میرا ذہن ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ میں ہر چیز کو غیر جانبدارانہ انداز میں سمجھنے اور بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔ بہت پہلے جب کہ میں الجمعیۃ ویکلی مرتب کرتا تھا، اس وقت اس کے شمارہ یکم مئی ۱۹۷۰ء میں میں نے ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page