Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 367

By Maulana Wahiduddin Khan

کا عنوان تھا : کچھ آر ایس ایس کے بارہ میں ۔ اس مضمون میں کسی رائے زنی کے بغیر اس کا تعارف کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا : " آر ایس ایس کا بانی ایک ڈاکٹر تھا جس نے قومی خدمت کے لیے شادی نہیں کی۔ اور جب وہ مراتو ملک بھر میں اس تنظیم کی ۵۰۷ شاخیں قائم ہو چکی تھیں۔ آر ایس ایس سے جو لوگ وابستہ ہیں وہ روزانہ کاروبار شروع کرنے سے پہلے اپنا صبح کا وقت ، اسکول اور کالج کے طلبہ اپنا شام کا وقت اور سالانہ چھٹیاں اس کام میں لگاتے ہیں۔ جو لوگ باقاعدہ اس کے پرچارک ہیں وہ گھر بار اور روزگار چھوڑ کر مستقل اس میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ تنظیم کی خدمت کے دوران نکاح نہیں کرتے۔" پاکستان کے ایک صاحب جو خلافت اسلامیہ قائم کرنے کے علم بردار ہیں۔ انھوں نے راقم الحروف کے بارہ میں لکھا ہے : (مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی بنیادی انقلابی فکر کو غلط قرار دینے والوں) میں سے ایک نمایاں شخص بھارت میں ہیں، یعنی مولانا وحید الدین خاں ، جو بھارت کے سرکاری حلقوں اور بالخصوص بی جے پی اور آر ایس ایس کے منظور نظر ہیں (میثاق، لاہور، مارچ ۱۹۹۴ء، صفحہ ۱۵) یہ ایک لغو بات ہے۔ میرا کسی بھی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا مزاج چونکہ دعوتی ہے، اس لیے جب بھی کسی اجتماع میں مجھ کو بلایا جاتا ہے تو میں وہاں جاتا ہوں ، خواہ یہ اجتماع مسلمان کا ہو یا ہندو کا۔ حتیٰ کہ مذکورہ پاکستانی بزرگ کے اجتماع میں بھی شریک ہو چکا ہوں۔ آر ایس ایس کے لوگوں سے میری ملاقات ہوتی ہے یا ان کی دعوت پر میں ان کے جلسہ میں جاتا ہوں تو وہاں میں کس قسم کی بات کرتا ہوں، یہ خود آر ایس ایس کے لوگوں کی زبانی بخوبی طور پر معلوم ہو سکتا ہے۔ یہاں میں اس کے لیے دو حوالے دوں گا۔ آر ایس ایس کے انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر (دہلی) نے اپنے شمارہ ۵ اگست ۱۹۹۰ میں ایک مفصل مضمون میرے بارہ میں شائع کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا ــــــــ ایک مبلغ مولانا : A Missionary Maulana اسی طرح ہندی اخبار راجستھان پتریکا (۱۲ نومبر ۱۹۹۳) میں آر ایس ایس کے ایک رائٹر ڈاکٹر مہیش شرما کا مفصل مضمون میرے بارہ میں چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے میرا اور دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page