Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 368

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم رہنماؤں کا فرق بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ مولانا وحید الدین خاں کا طریقہ دعوت ہے اور دوسروں کا طریقہ عداوت۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ ہمیشہ مسلم رہنماؤں کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ آخر آپ کیا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں مسلم رہنماؤں کا مخالف نہیں۔ البتہ کئی بار میں نے ان کی ترجیحات پر تنقید کی ہے۔ کیوں کہ میں دیکھتا ہوں کہ اکثر وہ نان ایشو کو ایشو بنا لیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ عام مسلمانوں کے لیے مایوسی اور ہلاکت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ تقسیم کے بعد انھوں نے کئی بار ایسا کیا ہے کہ ایک ایشو کو اٹھایا اور مسلمانوں کو یہ تاثر دے کر بھڑ کا یا کہ یہ نہیں تو تمھارا وجود بھی نہیں۔ کبھی اُردو، کبھی مسلم یونیورسٹی، کبھی پرسنل لا، کبھی ملی تشخص، کبھی بابری مسجد، کبھی فقہ مطلقہ، کبھی تعلیقات ثلاثہ۔ میرے نزدیک مسلمانوں کی قسمت اس قسم کے مسائل سے وابستہ نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو بابری مسجد کے ڈھائے جانے کے بعد مسلم ملت بھی ڈھ گئی ہوتی۔ اس قسم کی باتیں مسلمانوں کے ذہن کو بگاڑنے کے ہم معنی ہیں۔ ہمارے لیے صحیح ترجیح ہے تعلیم اور اقتصادیات اور اخلاق۔ مسلم رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ سارا زور انہیں اصل مسائل پر دیں۔ مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی تدبیریں کریں۔ مسلمانوں کو اقتصادیات میں آگے لے آئیں ۔ مسلمانوں کے اندر اعلیٰ کردار پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ یہ سب جڑ والے کام ہیں۔ ۱۶ اپریل کو ۱۰ ان کے بھارتیہ مزدور سنگھ کا اجلاس ریشم باغ (ناگپور) میں ہوا۔ یہاں میرا افتتاحی خطاب تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آزادی کے بعد ہندوستان وہ ترقی یافتہ ہندوستان نہ بن سکا جو اس کو بننا چاہیے تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں یکتا نہ ہونا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنا مشن دیش میں کمیونل ہارمنی کو بنایا ہے۔ اس سلسلہ میں جو باتیں کہیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس کا سبب دونوں طرف غیر ضروری قسم کی غلط فہمیاں پیدا ہونا ہے۔ دونوں فرقوں میں اگر ملنا جلنا بڑھ جائے تو اپنے آپ غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔ اور لوگوں کے درمیان نارمل تعلقات قائم ہو جائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page