Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 369

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے مختلف واقعات بیان کیے۔ اور واقعاتی مثالوں کے ذریعہ بتایا کہ ہر آدمی انسان ہے۔ کوئی آدمی اگر آپ کو اپنا مخالف دکھائی دے تو یہ اس کی صرف عارضی حالت ہے۔ میں نے کہا کہ بندے ماترم یا اس طرح کی دوسری چیزوں پر کچھ مسلمان جو اتنا زیادہ بھڑکتے ہیں اس کی وجہ حقیقت نہیں ہے، بلکہ غیر ضروری حساسیت ہے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے اس قسم کی حساسیت مسلمانوں میں موجود نہیں تھی۔ اس لیے خود مسلمان اس قسم کی باتیں کہتے تھے مگر کوئی رد عمل نہیں ہوتا تھا۔ میں نے اقبال کے چند اشعار سنائے ۔ مثلاً : سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز اہل وطن سمجھتے ہیں اس کو امام ہند ۱۹۴۷ء سے پہلے کوئی مسلمان اقبال کے ان اشعار پر بھڑکتا نہیں تھا۔ آج کوئی ہندو یا مسلمان ایسی کوئی بات کہہ دے تو فوراً اخباروں میں بیان اور مراسلے چھپنے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نا اہل لیڈروں نے غیر ضروری طور پر مسلمانوں کو ان باتوں کے بارے میں حساس بنا دیا ہے ۔ کچھ سطحی لوگوں نے اس تضاد سے بچنے کا یہ آسان راستہ نکالا ہے کہ اقبال کے اس قسم کے اشعار کو ان کے مجموعہ کلام سے حذف کر دیں۔ مگر یہ صرف دھوکا ہے۔ اشعار کو حذف کرنے کا حق صرف اقبال کو تھا، بعد کے کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں۔ آج کے کسی آدمی کو یا تو اقبال کو ان کے ان اشعار کے ساتھ لینا ہے یا پوری طرح اقبال کو رد کر دینا ہے ۔ ہندی، انگریزی اور مراٹھی اخباروں میں میری تقریر کی تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ۔ مثلاً انڈین ایکسپریس، ہینتا دادا، ترن بھارت اور وغیرہ ۔ یہ رپورٹیں ۱۷ اپریل اور ۱۸ اپریل کے اخبارات میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ منچ پر شری ٹھیگڑے جی، شری بھگت جی وغیرہ تھے۔ ان میں سے ایک مسٹر جال فیروز گیمی (Jal Pheroze Gimi) تھے ۔ ان کی عمر تقریباً ۸۰ سال ہے ۔ وہ ۵۳ سال تک ناگپور یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ استاد کی حیثیت سے بھی اور وائس چانسلر کی حیثیت سے بھی۔ مگر پوری مدت میں انھوں نے رضا کارانہ کام کیا۔ یونیورسٹی سے کبھی کوئی تنخواہ نہیں لی۔ حتی کہ جب وہ وائس چانسلر تھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page