بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 370
By Maulana Wahiduddin Khan
تو یونی ورسٹی کی گاڑی کے بجائے سائیکل پر اپنے گھر سے یونی ورسٹی جایا کرتے تھے۔ اس قسم کی بہت سی باتیں ان کے بارہ میں معلوم ہوئیں۔ میں نے سوچا کہ اب یہی کیسے کیسے باکردار لوگ ہمارے ملک میں ہیں۔ جب تک ایسے افراد موجود ہیں ملک کے مستقبل کے بارہ میں مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آر ایس ایس کے ایک لیڈر مسٹر تھیٹ نگڑی (D. B. Thengadi) نے اپنی ایک انگریزی کتاب پڑھنے کے لیے دی۔ اس کا نام تھا : The Perspective یہ کتاب مصنف کے مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس میں ۱۹۵۵ سے ۱۹۶۰ تک کے مضامین موجود ہیں۔ اس کے آغاز میں کسی کا یہ قول لکھا ہوا تھا کہ فوجوں کے حملہ کی مزاحمت کی جاتی ہے مگر نظریات کے حملہ کی مزاحمت نہیں ہوتی : The invasion of armies is resisted the invasion of idea is not. یہ آر ایس ایس کے ایک لیڈر کی کتاب ہے۔ گویا کہ زبان حال سے وہ کہہ رہا ہے کہ ہماری طرف اگر تم تشدد دانہ طور پر آؤ گے تو ہم کو تم اپنا مزاحم پاؤ گے۔ اور اگر تمہارے پاس اعلیٰ نظریہ ہو اور اس کو لے کر تم پر امن طور پر ہماری طرف آؤ تو ہمارا سینہ اس کے لیے پوری طرح کھلا ہوا ہے۔ ۱۶ اپریل کی شام کو انگریزی اخبار ہینتا وادا (The Hitavada) کے سینیر رپورٹر مسٹر دراگ پچ پورڑا (Virag Pachpora) نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ کمیونل ہارمنی کی جو بات کرتے ہیں وہ نیشنل معنوں میں نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کی سیکورٹی کے لیے کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہر گز نہیں۔ میں ہم آہنگی اور اعراض کی جو بات کرتا ہوں وہ اس لیے کرتا ہوں کہ یہی فطرت کا قانون ہے۔ ہر جگہ اسی کو اختیار کرنا ہے۔ گھر کے اندر بھی، کمیونٹی کے اندر بھی اور پورے دیش میں بھی۔ مسٹر ششمتا پچ پورڑا ایک فری لانسر ہیں۔ وہ مراہٹی اخباروں میں لکھتی ہیں۔ انھوں نے ۱۶ اپریل کی شام کو انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر بابری مسجد کے انہدام کے بعد کی مسلم سیاست سے تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader