Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 371

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر اشرف الدین ساحل (پیدائش ۱۹۴۱) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ایک درجن سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔ اپنی تازہ کتاب ”ناگپور میں اردو“ کا ایک نسخہ انھوں نے عنایت فرمایا۔ اس کتاب میں موضوع سے متعلق کافی معلومات جمع کی گئی ہیں۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ناگپور سے ایک اردو ہفت روزہ ۱۹۳۸ میں جاری ہوا۔ اس کا نام مسلم تھا۔ اس کے ایڈیٹر علی برادران کے تربیت یافتہ اور جبل پور کے مشہور صحافی تاج الدین تھے۔ یہ اخبار کانگریسی نظریات کا حامل تھا۔ چونکہ وہ دور مسلم لیگ کے عروج کا تھا اس لیے اس کو قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آخر کار وہ مسلم لیگ کے نظریات کی حمایت کرنے لگا۔ (صفحہ ۲۸۶) ناگپور وسط ہند میں واقع ہے۔ یہ بالکل یقینی تھا کہ اس علاقہ میں کبھی بھی مسلم لیگ کا ”پاکستان“ بننے والا نہیں ہے۔ اس کے باوجود یہاں پاکستانی تحریک کی اتنی دھوم تھی کہ اخبار کو اپنی پالیسی بدل دینا پڑا۔ یہ جذباتی سیاست کی انتہا ہے۔ جن نا اہل لیڈروں نے مسلمانوں کے درمیان اس قسم کی سیاست چلائی ان کی یہ جسارت حیرت انگیز ہے۔ کیوں کہ وہ اسلامی اصول اور تاریخی عوامی دونوں سے آخری حد تک بے خبر تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ من سمت نجات یعنی ان کی عافیت اس میں ہے کہ وہ چپ رہیں۔ ۱۰ اپریل کی شام کو ۶ بجے ہم لوگ ناگپور کے ایک ادارہ میں گئے۔ اس کا نام انڈیا پیس سنٹر ہے۔ اس کی ڈائرکٹر ایک عیسائی خاتون (Hansi De) ہیں۔ مگر آج اتوار کی وجہ سے وہاں ایک چوکیدار کے سوا اور کوئی شخص موجود نہ تھا۔ اس ادارہ کی طرف سے یکم۔ ۶ نومبر ۱۹۹۳ کو ایک نیشنل اسٹڈی کی کانفرنس ہوئی تھی۔ اس کا موضوع تھا : Minorities in India and the National Mainstream اس موقع پر انھوں نے مجھے خطاب کرنے کی دعوت دی تھی مگر بعض وجوہ سے میں اس میں شرکت نہ کر سکا۔ آج یہاں بالکل سناٹا تھا۔ تاہم میں سنٹر کے خوب صورت لان میں ہم لوگ دیر تک بیٹھے۔ یہاں کے پرسکون ماحول میں ایک روحانی کیفیت مل رہی تھی۔ سورج غروب ہوا تو چوکیدار نے لان میں ایک بڑا فرش بچھا دیا۔ یہاں ہم لوگوں نے مغرب کی نماز پڑھی میرے علاوہ محمد حنیف صاحب اور عبد السلام اکبانی صاحب شریک تھے۔ نئی جگہ پر نماز پڑھنے میں ہمیشہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page