Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 372

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھ کو نئی کیفیت حاصل ہوتی ہے۔ میں نے ساتھیوں سے کہا : شاید ہم پہلے شخص ہوں جس نے یہاں اللہ کے لیے سجدہ کیا۔ آخر میں مسز ہنسی ڈے کے نام ایک خط لکھ کر دیا اور ہم لوگ وہاں سے واپس آگئے۔ روزنامہ انقلاب (بمبئی) کے شمارہ ۱۶ اپریل ۱۴۹۹ میں صفحہ اول پر یہ خبر تھی کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ایک مقدمہ میں فیصلہ دیا ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں دستور ہند کے تحت غلط ہیں۔ اسی اخبار کے آخری صفحہ پر ایک با تصویر خبر تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بمبئی کی ایک مسلمان خاتون نے اپنے مسلمان شوہر کے مظالم سے تنگ آکر خود کشی کرلی۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے ناگپور کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ انسانی نقطہ نظر سے دونوں میں سے کون سا واقعہ زیادہ سنگین ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم خاتون کا خود کشی کرنا۔ میں نے کہا کہ میری بھی رائے یہی ہے۔ مگر آپ دیکھیں گے کہ ایک مسلمان عورت کی خود کشی کا واقعہ تو صرف مقامی اخبار میں ایک بار چھپ کر رہ جائے گا۔ مگر تین طلاق والے مسئلہ پر تمام خود ساختہ رہنما شور و غل کا طوفان مچادیں گے۔ اس کے بعد جب میں دہلی پہنچا تو اخباروں میں نام نہاد مسلم رہنماؤں کے پرشور بیانات کی دھوم تھی۔ قومی آواز (۱۹ اپریل ۴ ۱۹۹) کے پہلے صفحہ کی ایک رپورٹ کی سرخی یہ تھی : طلاق کے مسئلہ پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف مسلم رہنماؤں کا شدید رد عمل ، یکم مئی کو احتجاجی اجلاس۔ یہاں کے ہندی روزنامہ لوک مت سماچار (۱۷ اپریل ۱۹۹۴) میں صفحہ اول کی پہلی خبر کی سرخی یہ تھی : دیش کے بڑوں کو ۵۲ کروڑ روپے دیے گئے۔ یہ کوئی ایک خبر نہیں۔ ایسی خبریں ہر روز ہمارے اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں۔ اس قسم کی ایک خبر دوسرے ملکوں میں آدمی کی سیاسی حیثیت کو ختم کر دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر ہندوستان میں اس قسم کی خبریں اس طرح چھپتی ہیں جیسے کہ وہ معمول کے واقعات ہوں۔ جس ملک میں اخلاقی حساسیت اس حد تک کم ہو جائے وہ ملک اگر ترقی نہ کر رہا ہو تو اس میں تعجب کرنے کی کوئی بات نہیں۔ ناگپور میں میرا قیام دو جگہوں پر تھا۔ پہلے جناب محمد حنیف صاحب کی رہائش گاہ پر اور اس کے بعد جناب عبد السلام اکبانی کی رہائش گاہ پر۔ اس دوران یہاں کے تعلیم یافتہ مسلمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page