بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 373
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلسل آتے رہے اور ان سے مختلف دینی موضوعات پر گفتگو جاری رہی ۔ چھٹی کلاس کے ایک مسلم طالب علم سے میں نے کئی سادہ قسم کے سوالات کیے۔ مثلاً اسلام کے بنیادی ارکان کیا ہیں ۔ دنیا میں مسلمان کتنے ہیں ۔ مسلم ملکوں کی تعداد کیا ہے ۔ اسلام میں تعلیم کی کیا اہمیت ہے ۔ اس قسم کے کئی سوال کیے۔ مگر کسی سوال کا وہ درست جواب نہ دے سکے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انگلش اسکولوں میں پڑھنے والے مسلم نوجوان اسلام سے کتنا زیادہ بے خبر ہیں۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں جہاد کا تصور کیا ہے ۔ اس کے جواب میں مسلم طالب علم نے کہا کہ جہاد کا مطلب ہے اسلام کو پھیلانے کے لیے لڑنا۔ میں نے کہا کہ اسلام کو پھیلانے کے لیے دعوت کا طریقہ ہے ، لڑائی کا طریقہ نہیں ہے ۔ ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ایک بار مقابلہ کا امتحان تھا۔ میں بھی انٹرویو بورڈ میں شامل تھا۔ کئی دن تک انٹرویو ہوتے رہے ۔ مگر کوئی مسلمان نہیں آتا تھا۔ آخری دن ایک مسلمان لڑکا آیا ۔ اس نے ۵۳ فی صد نمبر حاصل کیے ۔ انٹرویو بورڈ کے ایک سینیر ہندو ممبر نے کہا کہ ایڈمنسٹریشن کو متوازن بنانے کے لیے ہمیں مسلمانوں کی ضرورت ہے ۔ اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہمیں مسلمانوں کو خصوصی طور پر لینا ہے، ورنہ ہمارا ایڈمنسٹریشن غیر متوازن (lop-sided) ہو جائے گا ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس کے نمبر کو بڑھا دینا چاہیے : Let us raise his marks. چنانچہ انھوں نے اس مسلم امیدوار کا نمبر بڑھا کر ۶۰ کر دیا ۔ مذکورہ افسر نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مقابلہ کے امتحانات میں آئیں ۔ اوپر کے حلقوں کا یہ احساس گویا ان کے لیے ایک نیا موقع کھول رہا ہے ۔ ۱۰ اپریل کی شام کو پانچ بجے میں عبد السلام اکبانی صاحب کے ساتھ نکلا ۔ آج ہمیں شام کا کھانا کہیں اور کھانا تھا ۔ اس کے بعد ایک اجتماع تھا ۔ اس طرح ہمیں رات کو کافی دیر کے بعد گھر لوٹنا تھا ۔ عبد السلام صاحب اپنی گاڑی پر بیٹھ چکے تھے ۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے ۱۲ سالہ گھریلو ملازم کو بلایا اور کہا ” آصف ، دیکھو بیٹے آج رات کو تم یہیں سوؤ گے ۔ اپنے گھر جا کر کہہ آنا ۔ یہ عبد السلام صاحب کا گھریلو ملازم تھا ۔ ملازم سے اس طرح مشفقانہ خطاب کرنا یہ اسلامی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader