بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 374
By Maulana Wahiduddin Khan
تہذیب کا ایک خاص پہلو ہے۔ اس میں ایک طرف اسلامی اخلاق کی تکمیل ہوتی ہے ۔ دوسری طرف ملازم اپنے کو ملازم نہیں سمجھتا بلکہ اپنے کو گھر کا ایک فرد سمجھتا ہے ۔ اور پھر وہ بات ہوتی ہے جو فارسی شاعر نے کہا: کہ مزدور خوش دل کند کار پیش عبد السلام اکبانی صاحب اگر چہ تاجر ہیں۔ مگر ان کے اندر ادبی اور اصلاحی ذوق بھی کافی ہے۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتے بھی رہتے ہیں ۔ ان کی تحریروں کا ایک مجموعہ ”سچی بات “ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ یہ ۸۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان ہے " مثبت سوچ کا بٹن دبائیے “ اس کے سرورق پر یہ حکیمانہ جملہ لکھا ہوا ہے : سچ ہر حال میں سچ ہے ۔ اس کو ثابت کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ ۱۷ اپریل کی شام کو محمد حنیف صاحب کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ انھوں نے کچھ انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں کو شام کے کھانے پر بلایا تھا۔ کھانے کے بعد گفتگو ہوئی۔ میں نے قرآن اور حدیث اور سیرت کی روشنی میں تقریباً آدھ گھنٹہ خطاب کیا۔ پھر سوال و جواب ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ مسلمانوں کی جدید نسل کے متعلق عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مغربی تہذیب نے اس کو اسلام سے دور کر دیا ہے۔ چنانچہ ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ مسلسل مغربی تہذیب کی برائیاں بیان کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ اس کے فتنہ سے نئی نسل کو بچا سکیں ۔ مگر یہ درست نہیں۔ نئی نسل کی اسلام سے دوری کا سبب مغربی تہذیب کی یلغار نہیں ہے۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ جدید ذہنی معیار پر اس کو اسلام پیش نہ کیا جا سکا۔ میں نے قرآن و حدیث سے کئی مثالیں دے کر لوگوں سے پوچھا کہ اس طرح اگر اسلام کو پیش کیا جائے تو کیا کوئی شخص اس کو ماننے سے انکار کر سکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ ہر زمانہ کا ایک اسلوب ہوتا ہے ۔ موجودہ زمانہ کا بھی ایک اسلوب ہے۔ اس اسلوب میں اسلام کو پیش کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جدید نسل کو ذہنی انحراف سے بچانے کی اور کوئی صورت نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ آج کل آپ ہندوؤں کی طرف زیادہ مائل ہیں اور مسلمانوں کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ یہ ایک جھوٹا پروپیگنڈا ہے جس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader