بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 375
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ میں جو کچھ بھی کرتا ہوں اس کا اظہار ماہنامہ الرسالہ میں ہوتا ہے۔ آپ الرسالہ کا کوئی بھی شمارہ نکال کر دیکھئے کہ وہ کیا گواہی دیتا ہے۔ انہوں نے اپنی الماری سے ایک الرسالہ نکالا۔ میں نے ایک ایک ورق الٹ کر بتانا شروع کیا کہ دیکھیئے، اس کے مضامین سے کیا ثابت ہو رہا ہے۔ اس شمارہ کے تمام مضامین مسلمانوں سے متعلق تھے۔ صرف خبر نامہ کے بعض انٹرویو کا تعلق ہندوؤں سے تھا۔ ایک اور صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ہمارے مشن کے دو رُخ ہیں۔ ایک کا تعلق مسلمان سے ہے، اور دوسرے کا تعلق غیر مسلموں سے۔ مسلمانوں کے سلسلہ میں ہمارا مشن یہ ہے کہ ان کے لیے اسلام کو از سر نو دریافت (rediscovery) بنائیں ۔ ان کے روایتی ایمان کو زندہ ایمان بنائیں۔ ہماری توجہ اور محنت کا زیادہ بڑا حصہ اسی پر خرچ ہو رہا ہے۔ غیر مسلموں کے سلسلہ میں ہمارا مشن یہ ہے کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات بڑھائے جائیں۔ قدیم زرعی دور میں یہ تعلقات پوری طرح موجود تھے۔ مگر اب جو صنعتی دور آیا ہے اس میں یہ تعلقات باقی نہیں رہے۔ دو قومی تحریک جیسی فرقہ وارانہ تحریکوں نے اس میں اور زیادہ بگاڑ پیدا کیا ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان فطری تعلق ٹوٹ گیا ہے۔ اس تعلق کو دوبارہ قائم کرنا ہر اعتبار سے انتہائی ضروری ہے۔ روزمرہ کی زندگی کے اعتبار سے بھی اور دعوت کے اعتبار سے بھی۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد حالات تیزی سے بدلے ہیں۔ اب بیشتر لوگ الفاظ کے فرق کے ساتھ وہی بات کہنے لگے ہیں جو الرسالہ میں ۷۹ء سے کہی جا رہی تھی۔ بلاشبہ الرسالہ مشن کے حق میں اللہ تعالی کی ایک تائید ہے۔ کچھ لوگ جو الرسالہ مشن کی مخالفت کمر رہے ہیں ان کی مخالفت محض نا فہمی کی بنا پر ہے۔ ان کا معاملہ الناس اعداء ماجهلوا کا معاملہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان کی حیثیت ایک داعی امت کی ہے اور اسلام ایک دعوتی مذہب ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ طویل عرصہ سے دعوت کا عمل رک گیا ہے۔ گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو یہ وہی صورت حال ہے جو دور اول میں " حدیبیہ" سے پہلے پیدا ہوگئی تھی۔ اس وقت عرب میں یہ صورت حال تھی کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت، کشیدگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader