Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 376

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ٹکراؤ کا ماحول قائم ہو گیا تھا۔ اس طرح وہ معتدل حالات ختم ہو گئے تھے جن میں دعوت کا عمل اپنے فطری انداز میں جاری رہتا ہے۔ ان حالات میں ایک مصالحانہ تدبیر کے ذریعہ غیر معتدل حالات کو معتدل حالات میں تبدیل کر دیا گیا۔ آج کل کی زبان میں یہ جمی ہوئی برف کو توڑنے (to break the ice) کا ایک معاملہ تھا۔ صلح حدیبیہ محض ایک وقتی صلح نہیں۔ یہ ایک سنتِ رسول ہے جس کو تعطل کو توڑنے کا عمل (break the ice act) کہہ سکتے ہیں۔ سنتِ رسول کی پیروی میں ایسا ہی ایک عمل آج بھی درکار ہے۔ حدیبیہ کے وقت مخصوص حالات پیدا ہوئے تھے جس کو استعمال کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جمی ہوئی برف کو توڑا۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھی اسی نوعیت کے کچھ حالات پیدا ہوئے ۔”تین نکاتی فارمولا “موجودہ جمی ہوئی برف کو توڑنے کے لیے اسی قسم کی ایک تدبیر تھی۔ یہ تدبیر خدا کے فضل سے مؤثر ثابت ہوئی ۔ نار ملائزیشن کا مطلوب عمل بالفعل جاری ہو چکا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ عمل (پروس) جاری رہے گا اور وہ وقت آکر رہے گا جب کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا قائم ہو اور دعوت کا عمل اپنے فطری انداز میں پوری طرح جاری ہو جائے۔ جو لوگ اس کوشش کی مخالفت کر رہے ہیں یا مسلمانوں کو اس سے برگشتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انھیں ڈرنا چاہیے کہ ان کی یہ منفی کارروائی کہیں صد عن سبیل اللہ کے ہم معنی نہ قرار پائے۔ ۱۸ اپریل ۱۹۹۳ کی سہ پہر کو ناگپور سے واپسی ہوئی۔ محمد حنیف صاحب اور عبد السلام اکبانی صاحب کے ساتھ ائیر پورٹ پہنچا۔ دونوں صاحبان تاجر ہیں۔ عبد السلام اکبانی صاحب سے میں نے کہا کہ مسلمانوں میں تجارتی شرکت کامیاب نہیں ہوتی، اس کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسلمان یا غیر مسلمان کی بات نہیں، اصل یہ ہے کہ جب بھی شرکت قریب کے لوگوں میں جائے تو وہ ٹوٹ جائے گی لیکن اگر دور کے لوگوں کے ساتھ شرکت کی جائے تو وہ کامیاب رہتی ہے۔ محمد حنیف صاحب کی تعلیم راج کمار کالج ، راجکوٹ میں ہوئی ہے۔ یہ کالج ۱۹۱۷ سے پہلے راجکماروں کی تعلیم کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد طلبہ کے اندر لیڈر شپ کی صلاحیت پیدا کرنا تھا۔ میں نے پوچھا کہ لیڈر شپ کے لیے وہ لوگ کون سی خاص صفت پیدا کرتے تھے۔ محمد حنیف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page