بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 377
By Maulana Wahiduddin Khan
صاحب نے کہا کہ خود اعتمادی (self-confidence) انھوں نے بزنس کے موضوع پر بتایا کہ بزنس میں اسٹیڈی انکم (steady income) کوئی چیز نہیں۔ جو آدمی اسٹیڈی انکم چاہے وہ بزنس میں کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ محمد حنیف صاحب نے بتایا کہ ۱۲ اپریل کو وہ بمبئی سے ناگپور آرہے تھے۔ فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ میں ان کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی تھا جس کی عمر غالباً ۸۰ سال سے زیادہ تھی، ایک مرتبہ وہ اپنی سیٹ سے اٹھا تو کمر درد کی وجہ سے لڑکھڑا کر گر پڑا۔ مگر حنیف صاحب نے نہایت تیزی کے ساتھ اٹھ کر اس کو سنبھال لیا۔ اس کو نیچے گرنے نہیں دیا۔ اس کے بعد وہ حنیف صاحب سے بہت مانوس ہوگیا۔ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو، زندگی میرے لیے کتنی مصیبت بن گئی ہے، آخر میں مرکیوں نہیں جاتا : Son, why I am not dying. محمد حنیف صاحب نے اس کو زندگی اور موت کا اسلامی تصور بتایا۔ جہاز میں بمبئی کا ٹائمس آف انڈیا (۱۸ اپریل) موجود تھا۔ اس کو دیکھتے ہوئے ایک خبر پر نگاہ ٹھہر گئی۔ عنوان تھا اچانک موت (sudden death) اس میں بتایا گیا تھا کہ میجر جنرل فرنینڈیز (Eustace William Fernandez) جو بمبئی کے رہنے والے تھے۔ وہ ۲۹ مارچ ۴۱۹۹ کو بادام باغ (کشمیر) کے حادثہ میں ہلاک ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف ۵۶ سال تھی۔ وہ یکم اپریل کو دہلی آکر ملٹری انٹیلیجنس کے ڈائرکٹر جنرل کے عہدہ کا چارج لینے والے تھے مگر قسمت نے دوسرا فیصلہ کر دیا : He was to take charge as director general of military intelligence in New Delhi on April 1, but fate decided otherwise. یہی کہانی ہر آدمی کی ہے، ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اگلے دنوں میں وہ ایک بڑے مقام پر پہنچنے والا ہے، مگر عین اس وقت موت آتی ہے اور اس کو ایک اور ہی دنیا میں پہنچا دیتی ہے ۔ انڈین ایرلائنس کا فلائٹ میگزین (اپریل ۱۹۹۹) دیکھا۔ قدیم فرنچ کالونی پانڈیچری اور قدیم پرتگالی کالونی گووا پر تفصیلی مضامین تھے۔ مگر ان میں کوئی خاص سبق والی بات نہیں ملی۔ جب کہ میں ہمیشہ سبق والی بات تلاش کرتا ہوں۔ گو اسے متعلق مضمون میں تھا کہ یہاں ایک پرتگالی شہزادی پادلا اور ایک غریب ہندوستانی کا پر میں محبت ہوگئی۔ شہزادی کی زبان پرتگالی تھی اور ہندوستانی کی زبان کون کنی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader