Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 378

By Maulana Wahiduddin Khan

دونوں نے ایک دوسرے کی زبان سیکھی اور دونوں ایک دریا کے کنارے ٹہنے لگے۔ گورنر کو معلوم ہوا تو اس نے پاولا کو واپس پرتگال بھیجنے کا حکم دے دیا۔ مگر جس صبح کو روانگی تھی، اس سے پہلے رات کو دونوں دریا کے کنارے اکٹھا ہوئے ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو ریشم کی ڈور میں باندھا اور بہری ہوئی ندی میں کود کر خودکشی کرلی : And finally when the time came to part, Paula and Gaspar preferred death to separation. (p. 30) اس قسم کے خودکشی کے واقعات اس لیے ہوتے ہیں کہ انسان صرف آج کے خوشی اور غم کو جانتا ہے، وہ کل کے خوشی اور غم سے واقف نہیں۔ اگر آدمی موت کے بعد کو جانے تو وہ کبھی خودکشی نہ کرے ۔ ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ سیاحوں کی آمد و رفت سے ساری دنیا میں جوانٹرنیشنل ٹورسٹ انڈسٹری ہوتی ہیں ان کی مقدار ۳۰۰ بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ مگر ہندوستان کا حصہ اس میں ایک فی صد سے بھی کم (0.4 per cent) ہے۔ اس سے عالمی مقابلہ میں ہندوستان کی اقتصادی حالت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ناگپور سے انڈین ایرلائنس کی فلائٹ ۷ ہم کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ اسی جہاز سے شری اوم پر کاش اگھی (۶۶ سال) بھی سفر کر رہے تھے۔ وہ آر ایس ایس میں کل ہند آرگنائزنگ سکریٹری ہیں۔ جہاز کے اندر اچانک ان سے ملاقات ہوئی۔ میرا طریقہ ہے کہ میں ہر آدمی سے اس کے اپنے میدان کی باتیں جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ چنانچہ ان سے بھی اسی ڈھنگ پر باتیں کرتا رہا۔ انھوں نے بتایا کہ آر ایس ایس کی تنظیم میں جتنے لوگ بھی آپ کو اوپر دکھائی دیں گے وہ سب غیر شادی شدہ ہوں گے ۔ تاکہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت پارٹی میں لگا سکیں۔ یہ لوگ پہلے اچھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ نہ سروس کرتے اور نہ نکاح کرتے ۔ وہ اپنی پوری زندگی پارٹی کی خدمت میں لگا دیتے ہیں۔ یہی تنظیم کے بانی ڈاکٹر ہیڈگواری نے کیا تھا۔ انھوں نے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی۔ مگر ایک دن بھی پریکٹس نہیں کی۔ انھوں نے اپنا سارا جیون تنظیم کی خدمت میں لگا دیا۔ ہم لوگ اپوزیشن کے بجائے عمل پر یقین کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے کوئی بھی آدمی اپوزیشن سے نہیں سیکھتا، وہ تمھارے جیون کو دیکھ کر سیکھتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page