Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 428

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر مدھو مہتا نے کہا کہ پالی ٹکس آج کریمنل لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اور وہ پولیس کو اپنے مجرمانہ منصوبوں کے لئے ٹولے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کو یہ کہنا پڑا کہ مجھ کو پولیس سے بچاؤ۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق چیف جسٹس مسٹر وینکٹ چلیا (Mr. Venkatachelliah) نے کہا تھا کہ یہ رول آف لا کے خاتمہ کا آغاز ہے: بڑودہ یونیورسٹی میں اکنامکس ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر وی این کوٹھاری نے کہا کہ ہندوستان کی مسلم کمیونٹی ایک ایسے مسئلہ سے دوچار ہے جو شاید کسی بھی دوسرے ملک کی مسلم کمیونٹی کو درپیش نہیں۔ ماضی میں وہ اس ملک میں ایک حکمران اقلیت کی حیثیت رکھتی تھی۔ آج وہ ایک ایسی اقلیت ہے جس کو حاکمانہ حیثیت حاصل نہیں۔ مسلم جماعتیں عام طور پر اقتدار کی حیثیت میں رہی ہیں۔ ہندوستان میں اس نے یہ حیثیت کھودی ہے۔ اب اس غیر حاکمانہ حیثیت کو تسلیم کرنا ان کے لئے مشکل ہورہا ہے: بمبئی کے مسٹر اروند دیش پانڈے نے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک پمفلٹ تقسیم کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان کے کمیونسٹ کو حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان ہندوستانی ایتھورز کو مانیں اور یہاں کے مذہب، عقائد، روایات اور ہندو ہیروئوں کا احترام کریں۔ اسی طرح ہندوئوں کو چاہئے کہ وہ قوم کو ذات، زبان، نسل، فرقہ وغیرہ سے اوپر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page