بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 429
By Maulana Wahiduddin Khan
رکھیں: Muslims should accept the Indian ethos and respect for the faith, beliefes, heritage and heroes of Hindus. Hindus must put the nation above caste, language, race, sect, etc. سیمینار میں ایک صاحب کی تقریر مجھے پسند آئی۔ وہ بڑودہ شہر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے: G.N. Devy, Department of English M.S. University, Baroda 390 002 انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ کانفلٹ بھی پارٹ آف لائف ہے۔ اس دنیا میں کانفلٹ فری سوسائٹی (Conflict-free society) ممکن نہیں ہے۔ اس لئے ہمیں کانفلٹ کے خلاف شکایت کرنے کے بجائے کانفلٹ کے ساتھ جینے کا گر سیکھنا چاہئے پروفیسر امریک سنگھ نے کہا کہ دو قومی نظریہ کا الزام مسٹر محمد علی جناح پر نہیں جاتا۔ کیونکہ سب سے پہلے لالہ لاجپت رائے نے ۱۹۱۶ میں یہ کہا تھا کہ ہندوستان میں دو الگ قومیں آباد ہیں۔ ایک ہندو ، اور دوسرے سلمان۔ تاہم یہ بات نہایت عجیب ہے کہ کیوں مسٹر جناح نے اس کی تردید نہیں کی۔ اور اس کے بجائے انھوں نے اسی کو اپنی تحریک کی بنیاد بنایا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ جھگڑے کی جڑ تاریخی یادیں ہیں۔ مسلمان کے دماغ میں یہ ہے کہ ہم نے ہندوستان کے اوپر ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے۔ اور ہندوؤں کے دماغ میں ہے کہ مسلمانوں نے یہاں آکر ہمیں ایک ہزار سال تک غلام بنائے رکھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو جھگڑے ہیں ان کو ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ سب کا ہیرو ایک ہو جائے۔ مسلمانوں کو ہندوؤں پر اسی طرح فخر ہونے لگے جس طرح خود ہندوؤں کو ہے۔ اس کے بغیر یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ ایک سردار جی نے کہا کہ پارٹیشن نے مسلمانوں کو کچھ نہیں دیا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے یہاں مسلمانوں کی پوزیشن ۲۵ فیصد تھی۔ مگر ۱۹۴۷ کے بعد وہ کم ہو کر ۱۰ فیصد پر آگئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایک وقت آئے گا جب مسلمانوں کو اس کا احساس ہوگا اور اس وقت یہ حال ہوگا کہ جس طرح روس میں لینن کا مجسمہ گرایا گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader