Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 430

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح مسٹر جناح بھی مسلمانوں کی نظر میں حقیر ہو کر رہ جائیں گے۔ سیمنار ۵ بجے شام کو ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ہم لوگ پر یمانند ساہتیہ سدن کے لئے روانہ ہوئے۔ میرے علاوہ مسٹر بندوق والا، مسٹر دھومیتا، مسٹر اروند دلیش پانڈے بھی ساتھ تھے۔ راستہ میں ملکی مسائل پر باتیں ہوتی رہیں ۔ مسٹر اروند دلیش پانڈے نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے جب جس کشنانے مسٹر لال کرشن آڈوانی سے کہا تھا کہ "دیکھو آڈوانی ، ایسا کوئی کام نہ کرنا کہ میرے جیسے ہندو کو انڈیا میں رہتے ہوئے شرم آئے" مسٹر پانڈے نے بتایا کہ بھاجپا کے ایک لیڈر سے ان کی ایک گھنٹہ تک بات ہوئی۔ ان کی باتوں کا وہ جواب نہ دے سکے۔ آخر میں مسٹر اروند دلیش پانڈے نے ان سے کہا: "آئندہ جب انڈیا کی ہسٹری میں آپ کا نام درج کیا جائے گا تو آپ کے خانہ میں صرف دو کارنامہ لکھا جائے گا ایک یہ کہ مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ دوسرے یہ کہ آپ نے تاریخی بابری مسجد کو ڈھادیا۔" پر یمانند ساہتیہ سدن کے حال میں میری تقریر کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ وسیع حال پورا کا پورا بھرا ہوا تھا۔ نشست کا انتظام فرش پر کیا گیا تھا۔ اس جلسہ کا اعلان میرے نام کے ساتھ مقامی گجراتی اخبارات میں کر دیا گیا تھا۔ کافی لوگ اس میں شریک ہوئے۔ شتر کا میں ہندوؤں کے علاوہ مسلمان بھی موجود تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی کو مثبت سوچنے والا (Positive thinker) بنایا جائے۔ یعنی وہ انسان جو خلاف مزاج باتوں پر نہ بھڑکے۔ جو ناموافق چیزوں کے درمیان معتدل طور پر رہ سکے۔ حتی کہ اس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ اپنے مائنس کو پلس میں تبدیل کر دے۔ تفصیلی تقریر میں مختلف مثالوں سے اس حقیقت کو واضح کیا۔ صدر جلسہ ایک مقامی ہندو تھے۔ انھوں نے آخر میں بولتے ہوئے میری تقریر پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ جب مولانا صاحب بول رہے تھے تو ایسا معلوم پڑتا تھا جیسے مہمان رشی بول رہا ہے ۔ جلسہ کے بعد اسٹیج سے اتر اتو مختلف لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ کچھ مسلم نوجوانوں نے آٹو گراف لیا۔ ادھیڑ عمر کے ایک مسلمان جو ٹوپی پہنے ہوئے تھے اور جن کے چہرے پر داڑھی بھی تھی،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page