Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 438

By Maulana Wahiduddin Khan

کی علامتی تصویر بتانا ہو تو وہ ممتاز محل کا مقبرہ (تاج محل) ہے: لوگ تاج محل کو غیر معمولی اہمیت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر تقریباً ۲۵ سال پہلے جب میں پہلی بار آگرہ گیا اور تاج محل کو دیکھا تو مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوئی ۔ میں اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر قریب کی مسجد میں چلا گیا۔ ۲ جنوری کی سہ پہر کو ۳ بجے جہاز گوہاٹی ائیرپورٹ پر اترا گیا۔ یہاں ائیرپورٹ کے لاؤنج میں تھوڑی دیر کے لئے بیٹھنا پڑا۔ یہاں ایک معمر بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ یہ پروفیسر بی کے رائے برمن تھے۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں (641194 .Tel) انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اسلام اور مسلمانوں پر کئی کتابیں انگریزی میں لکھی ہیں۔ ان کی دو کتابوں کے نام یہ ہیں: Prism in Islam Muharram in two cities by B.K. Roy Burman 1779, C.R. Park, New Delhi میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مختصر طور پر بتائیں گے کہ آپ کے مطالعہ کے مطابق اسلام کی اسپرٹ کیا ہے ۔ انھوں نے حسب ذیل الفاظ میں اپنا تاثر بیان کیا: Human brotherhood, man's basic nature is in quest of his humane essence, social justice. پروفیسر رائے برمن نے کثرت سے ملک کے مختلف حصوں کا سفر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان مختلف اور متضاد کلچروں کا ملک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گوہاٹی سے ۷۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک مندر ہے۔ وہاں سال میں ایک دن باجماعت نماز ہوتی ہے۔ اسی طرح انھوں نے بتایا کہ بھوٹان کی سرحد پر ایک قبیلہ ہے۔ وہ اپنے دیوتا کو خوش کرنے کے لئے سال میں ایک دن گائے کی قربانی کرتا ہے۔ اس طرح کی مختلف باتیں انھوں نے بتائیں۔ ائیرپورٹ سے ہوٹل کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ تقریباً پون گھنٹہ کار راستہ تھا۔ راستہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page