بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 439
By Maulana Wahiduddin Khan
میں سڑک کے دونوں طرف گوہاٹی کے مناظر سامنے سے گزرتے رہے۔ ہر چیز پر پسماندگی کے آثار دکھائی دئے ۔ یہاں کے مکانات ، یہاں کی دکانیں ، یہاں کے مرد اور عورت ، سب کچھ کم (Miniature) سے دکھائی دئے ۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہر چیز پر پسماندگی کی اسٹیمپ لگی ہوئی ہے۔ ایک آدمی جب دہلی کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو پرفلط شہر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ گوہاٹی کو دیکھتا ہے تو گوہاٹی اس کو مقابلہ نمبر ۲ کا شہر معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہ فرق اس کے اندر وہ احساس جگاتا ہے جس کو ”علیحدگی پسندی“ کہا جاتا ہے ۔ ہندوستان کی یہی نامسادی ترقی یہاں کی سیاسی بے چینی کی اصل ذمہ دار ہے۔ اس کے برعکس آپ امریکہ میں جائیں یا یورپ کے کسی ترقی یافتہ ملک کا سفر کریں تو وہاں بڑے شہر اور چھوٹے شہر میں اس قسم کا فرق آپ کو نہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ہمارے ملک جیسی علیحدگی کی تحریکیں بھی ابھرنے نہیں پاتیں۔ گوہاٹی میں میرا قیام اشوک گروپ کے ہوٹل برہم پترا کے کمرہ ۳۰۱ میں تھا۔ ہوٹل کے کمرہ میں پشت کی طرف ”شیشہ کی دیوار“ کے باہر سبزہ اور درخت کے مناظر ہیں۔ اس کے بعد جھیل ہے جس کا پانی دور تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے اوپر چڑیوں کے جھنڈ اڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جھیل کے اس پار سبز پوش پہاڑ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ مناظر بتاتے ہیں کہ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے بھرا ہوا ہے ۔ خاص طور پر یہاں پانی کی افراط ہے جس سے زراعت اور باغبانی کو بہت ترقی دی جاسکتی ہے۔ نیز ، سستی بجلی بڑی مقدار میں پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ علاقہ پسماندہ پڑا ہوا ہے۔ ایک ریٹائر ڈ افسر نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حکومت نے اس علاقہ کی مدد نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے اس علاقہ کو بے پناہ مالی مدد بھیجی ہے۔ مگر اس مدد کا بڑا حصہ تھوڑے سے لوگوں کی جیب میں چلا گیا۔ اس کا بہت کم حصہ ڈیولپمنٹ کے کاموں میں استعمال ہوا۔ ہندوستان میں آپ جس مسئلہ کی تحقیق کریں ، آخر میں سب کی جڑ میں یہی کرپشن نظر آئے گا۔ اس صورت حال کی بنا پر اب میرا حال یہ ہے کہ حکومت جب ”ڈیولپمنٹ“ کے نام پر کسی بڑی رقم کا اعلان کرتی ہے تو میری روح کانپ اٹھتی ہے کہ عوامی ٹیکسوں پر لوٹ کی ایک نئی مد کھل گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader