Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

گیا ۔ اب انڈین نیوی کا جہاز ٹکرائے بغیر اس کے اوپر سے گزر گیا۔ اس طرح دونوں جہاز بچ گئے ۔ یہ واقعہ بظاہر ہوابازی کی دنیا کا واقعہ ہے۔ مگر اس میں انسانی دنیا کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ کیونکہ انسانی زندگی کا سفر بھی عین اسی اصول کے تحت طے ہوتا ہے جس کا نمونہ مذکورہ فضائی واقعہ میں نظر آتا ہے۔ مذکورہ واقعہ میں دو جہاز عین ٹکراؤ کے راستہ پر آگئے ۔ چند منٹ میں دونوں کے دونوں تباہ ہو جانے والے تھے۔ اس وقت ایک جہاز نے اپنے آپ کو نیچے اتار لیا ۔ اس ” پسپائی“ کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے دونوں تباہی سے بچ گئے ۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ زندگی کی کامیابی کے لیے جس طرح آگے بڑھنا ضروری ہے اسی طرح پیچھے ہٹنا بھی ضروری ہے۔ اس دنیا میں بعض اوقات اقدام کے بجائے وہ چیز مطلوب بن جاتی ہے جس کو عام طور پر ” پسپائی “ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کہ اقدام میں ٹکراؤ کا اندیشہ ہوتا ہے اور پسپائی کی صورت میں آدمی مہلک ٹکراؤ سے بچ کر دوبارہ مہلت عمل پا لیتا ہے۔ زندگی کی دوڑ میں جن لوگوں کو صرف اقدام کا سبق معلوم ہو اور پسپائی کی حکمت سے وہ نا آشنا ہوں، ایسے لوگ صرف تاریخ میں بربادی کے چیپٹر کا اضافہ کریں گے۔ ان کا نام نہاد اقدام قوم کو ابدی پسپائی کے سوا کہیں اور پہنچانے والا نہیں۔ انڈین ایرلائینز مسلسل گھاٹے میں چل رہی ہے۔ کار کردگی کے اعتبار سے وہ عالمی اسٹینڈرڈ سے بہت پیچھے ہے ۔ اس کا حل ایک تبصرہ نگار مسٹر سو بیر را نے یہ بتایا ہے کہ انڈین ایرلائینز میں کرایہ اور تنخواہ کا معیار دونا کر دیا جائے (ٹائمز آف انڈیا ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۲) یہ ایک سطحی رائے ہے جو معاملہ پر گہرائی سے غور کیے بغیر تجویز کی گئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ انڈین ایرلائینز میں گھاٹا حقیقی نہیں ہے بلکہ مصنوعی ہے۔ انڈین ایرلائینز کا تعلق پبلک سیکٹر سے ہے اور پبلک سیکٹر کے تمام ادارے انڈین ایرلائینز کی طرح گھاٹے میں چل رہے ہیں۔ اس کی وجہ پبلک سیکٹر میں بڑھا ہوا کرپشن ہے۔ نہرو کی قیادت میں آزاد ہندوستان میں جو سب سے بڑی برائی داخل کی گئی وہ اسٹیٹ اکونومی تھی۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ اسٹیٹ اکونومی کے اصول کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے ۔ یہ بات تقریباً یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ پبلک سیکٹر کے تجارتی اداروں کو اگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page