ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا جائے تو سب کے نفع کے ساتھ چلنے لگیں گے۔ سوا گھنٹہ سفر کرنے کے بعد جہاز ناگپور کے ہوائی اڈہ پر اترا گیا۔ یہ بوئنگ ۷۳۷ تھا، مگر غالباً وہ پرانا ہو چکا ہے۔ کیونکہ کیبن کے اندر شور اتنا زیادہ تھا کہ اناؤنسر کی آواز صاف سنائی نہیں دیتی تھی۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ایک مقرر مدت کے بعد جہاز بدل دیے جاتے ہیں۔ مگر جن ملکوں کے پاس زر مبادلہ کم ہے، وہ جہاز کو اس وقت تک چلاتے رہتے ہیں جبکہ اس کا چلانا ہی ناممکن ہو جائے۔ ائیرپورٹ سے جناب محمد حفظ الرحمن صاحب اور دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ شہر پہنچا۔ حفظ الرحمن صاحب الّر سالہ شروع سے پڑھ رہے ہیں اور اس سے مکمل طور پر اتفاق رکھتے ہیں۔ ناگپور میں میرا قیام ہوٹل ہر دیو (روم ۵۰۸) میں تھا۔ ملنے والے مسلسل آتے رہے۔ ان میں مسلمان بھی تھے اور ہندو بھی۔ عصر کے وقت سے لے کر رات کے گیارہ بجے تک لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ یہ سلسلہ آخری دن تک جاری رہا۔ چنانچہ ہوٹل والوں نے میرے کمرہ میں مزید کرسیوں کا انتظام کر دیا تاکہ آنے والوں کے لیے سہولت رہے۔ ۸ نومبر ۱۹۹۲ء کو میں نے فجر کی نماز نظام الدین کی سات سو سالہ قدیم کالی مسجد میں پڑھی تھی۔ ظہر کی نماز میں نے دہلی ایرپورٹ پڑھی، اور عصر کی نماز ناگپور پہنچ کر ادا کی۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا واقعہ ہے جو ہر روز بہت سے مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر جب میں نے غور کیا تو مجھے اس چھوٹے سے واقعہ میں بہت بڑا سبق چھپا ہوا نظر آیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میں دہلی میں بھی اسلامی عبادت کرنے کے لیے آزاد تھا۔ اسی طرح میں راجدھانی کے ائیرپورٹ پر بھی اسلامی عبادت آزادانہ طور پر کر سکتا تھا۔ اور دہلی سے گیارہ سو کلومیٹر دور ناگپور میں بھی یہ آزادی حاصل تھی کہ میں اطمینان کے ساتھ اسلام کے بنائے ہوئے طریقہ کے مطابق اللہ کی عبادت کروں۔ پھر اس کا مقابلہ میں نے قدیم کی دور سے کیا جب کہ اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا۔ اس وقت پیغمبر اسلام اور اہل اسلام کو یہ آزادی حاصل نہ تھی کہ کھلے طور پر وہ نماز ادا کر سکیں، حتی کہ نماز با جماعت ادا کرنے کے مواقع بھی اس وقت موجود نہ تھے۔ مگر آج تمام مسلمانوں کو مکمل طور پر دینی آزادی حاصل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader