Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ واقعہ میرے لیے ایک علامت بن گیا جس میں مجھے اسلام کی تاریخ آگے کی طرف سفر کرتی ہوئی نظر آنے لگی۔ مجھے دکھائی دیا کہ آج مسلمانوں کی حالت لائق شکر ہے نہ کہ لائق شکایت۔ آج ہم اسلام کے حوصلہ افزا مرحلہ میں ہیں نہ کہ حوصلہ شکن مرحلہ میں۔ ملے ہوئے پرشکر کا جذبہ آدمی کے اندر حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ نہ ملے ہوئے پرشکایت کا ذہن آدمی کو جھنجلاہٹ اور مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ناگپور کا لفظ سب سے پہلے شہر کے پھل والوں کے ذریعہ میرے کان میں پڑا جو بلند آواز سے ’’ناگپوری سنترے‘‘ کہہ کر سنترا بیچتے تھے ، غالباً ۲۵ سال پہلے جب پہلی بار میں بذریعہ ٹرین ناگپور سے گزرا تو پلیٹ فارم پر پھل فروشوں کی آواز نے بتایا کہ ہماری ٹرین اس وقت ناگپور ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ہوئی ہے جو سنترے کے لیے خصوصی شہرت رکھتا ہے۔ برنائیکا کے بیان کے مطابق ، سنترا ابتدائے جزائر ملایا میں پایا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنی امتیازی خصوصیت کی بنا پر ساری دنیا میں پھیل گیا۔ آریج کلچر کے پھیلاؤ میں اسلام کا بھی خصوصی حصہ ہے۔ عربوں کے تجارتی سفر اور اسلام کی توسیع کے ساتھ سنترے کی کاشت بھی مختلف ملکوں میں کھیلتی رہی : Contributing to the spread of orange cultivation were... the development of the Arab trade routes, and the expansion of Islam. (VII/561) وہ بھی کیسا عجیب دور تھا جب مذہبی اصلاح اور علمی تحقیق سے لے کر زراعت اور باغبانی تک تمام عالمی ترقیاں اسلام کے زیر سایہ انجام پا رہی تھیں۔ ناگپور ریاست مہاراشٹر کا ایک شہر ہے جو ناگ ندی کے کنارے واقع ہے۔ اس کو گونڈ راجہ نے اٹھارویں صدی میں آباد کیا۔ وہ بھونسلے حکمرانوں کی راجدھانی تھا ۔ ۱۸۱۸ میں وہ برطانیہ کے زیر اثر آیا۔ ۱۸۶۷ میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ ناگپور میں ایک برطانی قلعہ ہے جو ۱۸۷۹ سے پہلے کے دور کی یاد دلاتا ہے۔ ایک قابل ذکر چیز یہاں کا میوزیم ہے جس میں قدیم تاریخی چیزیں رکھی گئی ہیں۔ ناگپور مہاراشٹر کے اس علاقہ میں واقع ہے جس کو ودربھا کہا جاتا ہے۔ ودربھا کو علیحدہ ریاست بنانے کی تحریک عرصہ سے چل رہی ہے۔ حال میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ مگر ذاتی طور پر میں اس کو نادانی کا ایک جوش سمجھتا ہوں۔ کیونکہ بالفرض اگر ودربھا بقیہ مہاراشٹر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page