بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 463
By Maulana Wahiduddin Khan
زمین پر اگر آپ اس کو روکیں تو وہ آسمان سے آپ کے گھروں میں داخل ہو جائے گا۔ یہ طوفانی سیلاب نہ صرف ہندوستان کو بلکہ تمام عرب دنیا اور مسلم دنیا کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ میری طرح کے کچھ لوگ جو اپنے ذوق کے تحت محفوظ نہ ہوسکتے ہوں وہی اس سے بچے ہوئے ہیں۔ ورنہ نام نہاد دیندار گھرانے تک اس فتنے سے محفوظ نہیں۔ ۵ جنوری ۱۹۹۵ کی صبح کو ناشتہ کی میز پر منسٹر ٹردیدی (آئی اے ایس) سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کے جھگڑوں کو ختم کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ مذہب کے بارہ میں گاندھی جی کے نظریہ کو پھیلا یا جائے۔ یعنی یہ کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں دو نقطۂ نظر ہیں۔ ایک یہ کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ یہ نظریہ بظاہر خوبصورت معلوم ہوتا ہے مگر وہ یقینی طور پر قابل عمل نہیں۔ شہنشاہ اکبر سے لے کر ڈاکٹر بھگوان داس (ایینشل یونینٹی آف آل ریلیجنز) اور مہاتما گاندھی تک غیر معمولی کوشش کے باوجود یہ نظریہ سراسر نا کام رہا ہے : حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ کا حل باہمی اعتراف (mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) میں ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ ناگالینڈ اور منی پور کی حیثیت ٹائم بامب کی ہو چکی ہے۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ یہ صرف دور ریاستوں کی بات نہیں۔ بلکہ نارتھ ایسٹ کا پور علاقہ آج اسی حالت کو پہنچ چکا ہے۔ اس طرح کی اور بہت سی باتیں لوگ کر رہے تھے، اور میں سوچ رہا تھا کہ اردو اخباروں میں، ہمارے لکھنے والے، جو کچھ لکھتے ہیں، اس کے مطابق، اردو خواں مسلمانوں کو صرف اتنا ہی معلوم ہے کہ اس علاقہ میں مسلمانوں کے خلاف شدید تعصب ہے اور بنگلہ دیشی کے نام پر مسلمانوں کو یہاں سے نکالا جا رہا ہے۔ حالانکہ "بنگلہ دیشی مسئلہ" اس علاقہ میں پیدا شدہ مسائل کا صرف ایک فیصد ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ مذہب اور کلچر کے اختلافات میں یہ ہونا چاہئے کہ ہم اپنے مذہب کی پیروی کرتے ہوئے دوسروں کے مذہب کا احترام کریں : We have to respect other religions while following our own.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader