ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
سے الگ ہو تو وہ بمبئی سے بھی الگ ہو جائے گا۔ بمبئی کی شمولیت کی وجہ سے اس کو جو اقتصادی حیثیت حاصل ہے، وہ اس سے علیحدگی کے بعد باقی نہ رہے گی۔ ناگپور میں تقریباً دو لاکھ مسلمان ہیں۔ یہاں ان کے کئی مدرسے اور تعلیمی ادارے ہیں مگر یہاں مسلمانوں کا کوئی ڈگری کالج نہیں۔ میرے خیال سے یہ ایک بہت بڑی کمی ہے۔ تاہم مسلم کالج سے میری مراد یہ نہیں کہ ایسا کالج جہاں مسلمانوں کو داخلے کی سہولت ہو۔ میرے نزدیک مسلم کالج اس لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کو یہاں تعلیم کے میدان میں بھی اپنی نفع رسانی کا ثبوت دینا چاہیے۔ ناگپور کو یہ فخر حاصل ہے کہ دسمبر ۱۹۲۰ میں یہاں کانگریس کا جو سالانہ اجلاس ہوا اس میں کانگریس نے پہلی بار سوراج کو اپنا گول قرار دیا۔ اس سے پہلے اس کے لیڈر برطانی اقتدار کے تحت ڈومینین اسٹیٹس کے الفاظ بولتے تھے۔ ایک صاحب سے اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پچھلے سو سال کے اندر اس ملک میں جو لیڈر اٹھے وہ دو قسم کے تھے۔ ایک وہ جن کو سوراج یا آزادی کے نام پر لیڈریاں ملیں۔ مثلاً گاندھی، نہرو، ابوالکلام آزاد وغیرہ۔ دوسرے وہ تھے جنھوں نے یہ کہا کہ سوراج یا آزادی کا مسئلہ ثانوی ہے۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ہم وقت کے مطابق اہل ملک کو تعلیم یافتہ بنائیں مثلاً مدن موہن مالویہ، تیج بہادر سپرو، سرسید وغیرہ۔ اگر آپ تاریخ میں پیچھے کی طرف دیکھیں تو دوسری عالمی جنگ کے بعد عین اسی زمانہ میں ٹھیک یہی واقعہ جاپان میں پیش آیا جو امریکی غلامی کے مسئلہ سے دوچار تھا۔ وہاں بھی دو قسم کے لیڈر آٹے۔ مگر دونوں ملکوں میں ایک فرق تھا۔ ہندوستان میں آزادی پسند لیڈروں کو بڑائی ملی اور تعلیم پسند لیڈروں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس کے برعکس جاپان میں تعلیم پسند رہنماؤں کو اہمیت دی گئی اور آزادی پسند لیڈروں کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ آج دونوں پالیسیوں کا انجام دنیا کے سامنے ہے۔ برصغیر ہند میں چند لیڈروں کو ذاتی شہرت و عظمت ملی۔ مگر قوم عالمی بساط پر بے عظمت ہو کر رہ گئی۔ دوسری طرف جاپان میں کوئی لیڈر ”قائد اعظم“ کا لقب نہ پا سکا۔ مگر قوم عالمی نقشہ میں ممتاز ترین درجہ کو پہنچ گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader