ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان نے آزادی کو مسئلہ نمبر ایک قرار دیا۔ اس کے مقابلہ میں جاپان نے تعلیم کو مسئلہ نمبر ایک بنایا۔ ہندوستان پیچھے رہ گیا۔ اور جاپان تمام قوموں سے آگے بڑھ گیا۔ ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحل نے ”تاریخ ناگپور“ کے نام سے ۱۲۰ صفحہ کی ایک کتاب شائع کی ہے جس کی ایک کاپی انھوں نے مجھے عطا کی۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ۱۶۶۶ء میں راجہ کو کب سنگھ اس علاقہ کا حکمراں تھا۔ کوکب سنگھ کی وفات کے بعد گوہنڈ شہزادوں میں تخت کی جنگ ہوئی۔ اس خانہ جنگی کے زمانہ میں شہزادہ بخت بلند دیو گڑھ سے بھاگ کر اورنگ زیب کے یہاں پہنچ گیا جو اس وقت دکن کے علاقہ میں تھا۔ بخت بلند تقریباً آٹھ سال (۹۱-۱۶۸۲ء) تک اورنگ زیب کے ساتھ رہا۔ اس درمیان میں اس نے اسلام قبول کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ اس کے بعد اورنگ زیب کی مدد سے بخت بلند نے راج گدی کے دوسرے دعویداروں کو زیر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اورنگ زیب نے ۱۶۹۱ میں اس کو راجہ کا خطاب دے کر دیو گڑھ واپس روانہ کیا۔ معاہدہ کے مطابق ، راجہ بخت بلند نے اورنگ زیب کو سالانہ خراج ادا کرنا شروع کیا۔ مگر جلد ہی بعد مرہٹوں کے ساتھ اورنگ زیب کی جنگی مصروفیت سے فائدہ اٹھا کر بخت بلند نے بغاوت کر دی اور اورنگ زیب کو خراج دینے سے انکار کر دیا۔ اورنگ زیب کو جب اس ناخوش گوار واقعہ کی خبر ملی تو اس نے یکم اگست کر ۱۹۹۹ء میں یہ فرمان جاری کیا کہ اب سرکاری کاغذات میں بخت بلند کو نگوں بخت لکھا جائے (صفحہ ۴۵) اورنگ زیب نے بخت بلند کی سرکوبی کے لیے ایک فوج بھیجی ۔ ابتدائ اس نے کامیابی بھی حاصل کی۔ لیکن اورنگ زیب کی فوج جو فیروز جنگ کی سرداری میں بھیجی گئی تھی، اس کے واپس آتے ہی، بخت بلند نے دوبارہ دیو گڑھ پر قبضہ کر لیا۔ مصنف لکھتے ہیں" بخت بلند نے اورنگ زیب کو بے حد پریشان کیا۔ جب اورنگ زیب کے آخری دور حکومت میں مرہٹوں سے مسلسل جنگ کے نتیجہ میں مغلوں کی طاقت کمزور ہو گئی تو بخت بلند کو آزادی کے ساتھ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ اس نے اپنی حکومت کی ترقی اور توسیع کے لیے کئی کارنامے انجام دیے ۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ ناگپور کی تشکیل جدید ہے (صفحہ ۴۸)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader