ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
اس واقعہ میں اورنگ زیب کے لیے اصل سبق یہ نہیں تھا کہ بلند بخت کو نگوں بخت (بد نصیب) کا لقب دے دیا جائے۔ اصل سبق یہ تھا کہ ——— دہلی کی سلطنت کو دکن تک وسیع کرنا اس کے لیے ایک ایسا غیر پختہ اقدام ہے جس میں دکن بھی نہ ملے اور آخر کار دہلی بھی ہاتھ سے چلا جائے۔ ناگپور ہندوستان کے ان شہروں میں ہے جہاں ابتدائی دور میں صنعتیں قائم ہوئیں۔ ہندوستان میں قدیم زمانہ میں صنعت کے نام سے صرف ایک چیز کی صنعت پائی جاتی تھی، اور وہ کھڈی پر کپڑا بننے کی صنعت تھی، اسٹیم پاور کی دریافت کے بعد غالباً پہلا قابل ذکر صنعتی کارخانہ ۱۸۱۸ میں کلکتہ میں قائم ہوا۔ بمبئی میں پہلی کاٹن مل ۱۸۵۴ میں شروع ہوئی۔ ۱۸۷۷ میں ناگپور میں جے این ٹاٹا نے کپڑے کی پہلی مل قائم کی جس کا نام ایمپریس مل تھا۔ ناگپور چونکہ کپاس پیدا کرنے کا علاقہ تھا۔ اس لیے کپڑے کی صنعت کے لیے وہ ایک موزوں مقام سمجھا گیا۔ تعلیم کے میدان میں بھی ناگپور آگے رہا ہے۔ برٹش گورنمنٹ نے ۱۹۱۰ میں ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن قائم کیا۔ تاہم ۱۹۱۴ میں پہلی عالمی جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے تعلیم کے میدان میں کوئی قابل ذکر کام نہ ہو سکا۔ ۱۹۱۸ میں جنگ ختم ہوئی تو اس کے بعد ملک میں متعدد یونیورسٹیاں قائم کی گئیں۔ ان میں سے ایک ناگپور یونیورسٹی بھی ہے جو ۱۹۲۳ میں قائم ہوئی۔ ناگپور کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ جغرافی حیثیت سے وہ ملک کے بالکل وسط میں واقع ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ ناگپور ہندوستان کا قلب ہے۔ اس اعتبار سے وہ کسی آل انڈیا تحریک کے لیے ایک آئیڈیل مقام ہے۔ میں نے کہا کہ معاف کیجئے، آپ ابھی تک حجری دور میں سوچ رہے ہیں۔ اب ہم کمیونی کیشن کے دور میں ہیں۔ آج جغرافی جائے وقوع نہیں بلکہ اتصال کے ذرائع یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کونسا مقام کسی عمومی تحریک کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ جو لوگ اس قسم کی بات کہتے ہیں وہ اپنے طرز فکر کے اعتبار سے ماضی میں جی رہے ہیں۔ وہ ابھی تک حال کے باشندے نہیں بنے۔ ناگپور سیاسی تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ ۱۹۲۰ میں ناگپور میں خلافت کانفرنس کا اجلاس تھا۔ اس کے بعد ۱۹۲۱ میں بریلی میں جمعیۃ علماء ہند کا سالانہ اجلاس ہوا۔ اس کے صدر مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ جمعیۃ کے بڑے بڑے علماء مثلاً مفتی کفایت اللہ صاحب، مولانا احمد سعید صاحب وغیرہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader