ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
اجلاس میں موجود تھے ۔ اجلاس کی کارروائی کا ایک جزوہ ہے جس کو بریلی کے ماہنامہ سنی دنیا (نومبر ۱۹۹۲) نے "ابوالکلام آزاد کی تاریخی شرکت " نامی کتاب سے لے کر نقل کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر ابوالکلام آزاد کی دعوت پر بریلوی جماعت کے کچھ ذمہ دار بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور علماء کے خلاف اپنے اعتراضات پیش کیے۔ مسٹر ابوالکلام آزاد نے کہا کہ میرے خلاف یہ الزامات غلط ہیں۔ اس کے بعد مفتی برہان الحق رضوی نے گرجدار آواز میں کہا : آں جناب نے ابھی ابھی اپنی جوابی تقریر میں زور دے کر فرمایا کہ مجھ پر تمام الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ۔ میری گزارش یہ ہے کہ اخبار زمین دار لاہور کے فلاں نمبر ، فلاں تاریخ میں نہایت جلی سرخیوں میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ " ناگپور میں خلافت کانفرنس کے پنڈال میں امام الہند ابوالکلام آزاد صاحب نے جمعہ پڑھایا اور خطبہ جمعہ میں مہاتما گاندھی کی صداقت و حقانیت کی شہادت دی " ایک مشرک کی صداقت و حقانیت کی شہادت خطبہ جمعہ میں ! ــــ یہ کیسا اسلام ہے ؟ " یہ سنتے ہی مولانا آزاد کا چہرہ فق ہو گیا۔ ایک دومنٹ تک مفتی برہان الحق کو دیکھتے رہے ، پھر بولے " لعنة الله علی قائلہ " مولانا نعیم الدین رضوی نے مفتی برہان الحق کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : برہان میاں ، آپ کے ابتدائی دو سوالوں نے تو ابوالکلام کو بالکل مبہوت کر دیا (صفحہ ۵۳ - ۵۴) یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو شخص بھی کوئی اصلاحی کام کرنے کے لیے اٹھا ، اس کا استقبال ہمیشہ برے انداز میں کیا گیا ۔ اس میں کسی بھی مسلم شخصیت کا کوئی استثناء نہیں ۔ یہ معاملہ اس وقت اور بھی زیادہ افسوس ناک بن جاتا ہے جب کہ ایک آدمی کو اس کی زندگی میں تو مطعون کیا جائے ، اور جب وہ مر جائے تو اس کے بعد مبالغہ آمیز انداز میں اس کی قصیدہ خوانی شروع کر دی جائے۔ مشہور سیو اگራም بھی ناگپور سے قریب واقع ہے۔ یہ ایک گاؤں ہے جس کا قدیم نام سیگاؤں تھا۔ ۱۹۳۶ میں مہاتما گاندھی نے اس کو اپنی قیام گاہ بنایا اور اس کا نام سیو اگራም رکھا۔ یہاں سیو اگራም آشرم اب بھی ان کی یادگار کے طور پر موجود ہے۔ یہ آشرم گویا ایک تربیت گاہ تھی جہاں مہاتما گاندھی اپنی پسند کا انسان بنانا چاہتے تھے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader