ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
مہاتما گاندھی کی خود نوشت سوانح عمری کا آخری باب ہے : ناگپور میں (At Nagpur) ۔ اس باب کے آخری الفاظ جو کتاب کے بھی آخری الفاظ ہیں ، وہ یہ ہیں ۔ میں قاری سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ سچائی کے خدا سے یہ دعا کرے میں شریک ہو کہ وہ مجھے اہنسا کی نعمت عطا کرے ، میرے ذہن میں اور میرے لفظ میں اور میرے عمل میں : I ask him to join with me in prayer to the God of Truth that He may grant me the boon of Ahimsa in mind, word and deed. (p. 420) یہ سطریں بتاتی ہیں کہ مہاتما گاندھی اہنسا (عدم تشدد) کو کتنا محبوب رکھتے تھے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ شخصی اعتبار سے تو مہاتما گاندھی قوم کے بابو بن گئے۔ مگر ان کا آدرش کسی بھی درجہ میں ملک کے اندر رائج نہ ہوسکا۔ سیوا گرام یا خود مہاتما گاندھی کے شیدائیوں میں بھی سیوا کی اسپرٹ پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ یہی معاملہ تقریبا تمام مشہور رہنماؤں کا موجودہ زمانہ میں ہوا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کا سالانہ سیشن دسمبر ۱۹۲۸ میں کلکتہ میں ہوا تھا۔ گاندھی جی ٹرین سے سفر کرتے ہوئے ناگپور سے گزرے۔ ریلوے اسٹیشن پر لوگ گاندھی جی سے ملے۔ لوئی فشر کی رپورٹ کے مطابق ، انھوں نے سوال کیا کہ آزادی کی تحریک اگر تشدد کا انداز اختیار کرلے تو آپ کیا کریں گے۔ گاندھی جی نے مطمئن لہجہ میں جواب دیا کہ میں اس میں حصہ نہیں لوں گا۔ میں لوگوں کو یہ سکھار ہا ہوں کہ وہ ایک قومی بحران کا مقابلہ غیر تشدد دانہ طریقوں سے کس طرح کریں : I am teaching the people how to meet a national crisis by non-violent means. (p.257) آج ۶۵ سال بعد ملک دوبارہ وہیں کھڑا ہوا ہے ۔ دوبارہ ہم بڑے پیمانہ پر قومی بحران سے دوچار ہیں ۔ دوبارہ ہمیں اپنے مسائل میں غیر تشدد دانہ طریقہ کا تجربہ کرنا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ نادانی کے تحت تشدد دانہ طریقہ آزمانا چاہتے ہیں۔ مگر تاریخ اس کی تردید کے لیے کافی ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پلاسی ، بالا کوٹ ، شانلی اور بہت سے مقامات پر لوگوں نے تشدد کے ذریعہ انگریز کو ملک سے نکالنا چاہا مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے ۔ اس کے بعد گاندھی میدان میں آئے۔ انھوں نے آزادی کی جد و جہد کو تشدد کے بجائے عدم تشدد کے اصول پر چلایا اور آخر کار کامیابی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader