بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 511
By Maulana Wahiduddin Khan
متحدہ قومیت کا ایک اٹوٹ حصہ سمجھ رہا ہے۔ وہ ان کو اپنے بھائی کے روپ میں دیکھ رہا ہے نہ کہ رقیب اور حریف کے روپ میں۔ یہ صورت حال جو آج ہر جگہ دکھائی دے رہی ہے وہ بلاشبہ ایک صحت مند سماج کی علامت ہے ، اور وہ یقینی طور پر ملک کے لیے ایک نئے اور بہتر مستقبل کی آمد کی خبر دے رہی ہے۔ ضلع میرٹھ گنگا اور جمنا کے درمیان واقع ہے۔ اس کی زمین نہایت زرخیز ہے۔ یہاں ہر قسم کی ترقی کے وافر مواقع موجود ہیں۔ مگر میرٹھ کو ، خاص طور پر یہاں کے مسلمانوں کو جتنی ترقی کرنا چاہیے تھا ، اتنی ترقی وہ نہ کر سکے۔ اس کا سبب غالباً یہاں کے لوگوں کا وہ مزاج ہے جو ۵۹-۱۸۵۸ کی بغاوّت میں شرکت کے نتیجہ میں فطری طور پر بنا۔ میرٹھ سے آگے ایک نہر ہے جس کے اوپر پل بنا ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ گنگا نہر ہے۔ ۱۹۸۷ کے فساد میں پچاس سے زیادہ مردوں اور عورتوں کو گولی مار کر اس نہر میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کی ضروری تفصیل الرسالہ نومبر ۱۹۸۸، صفحہ ۳۴-۳۵ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جب گنگا نہر کے بہتے ہوئے پانی پر میری نگاہ پڑی تو میں نے سوچا کہ کیا یہ پانی نو سال پہلے ہونے والے واقعہ کی تفصیل بتائے گا۔ پھر میرے ذہن میں آیا کہ وہ پانی اب یہاں کہاں ہے۔ وہ تو بہہ کر سمندر میں جا چکا۔ پھر خیال آیا کہ وہ پانی اب سمندر میں بھی نہیں ہوگا۔ وہ بھاپ بن کر فضا میں چلا گیا ہوگا اور پھر بادل بن کر کہاں کہاں برسا ہوگا ، اب کسی کو بھی یہ معلوم نہیں۔ مگر خدا کے علم میں یہ ساری باتیں اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کی قدرت میں ہے کہ وہ حکم دے اور تمام چیز ہی دوبارہ اکٹھا ہو کر پورے واقع کو ٹھیک اسی طرح سنا دیں جس طرح وہ ۲۳ مئی ۱۹۸۷ کو پیش آیا تھا۔ اس دن کون ظالم ثابت ہوگا اور کون مظلوم قرار دیا جائے گا ، اس کا علم خدا کے سوا کسی اور کو نہیں۔ راستہ میں ہم مودی نگر سے گزرے۔ یہاں ایک شوگر مل ہے۔ اس کے پاس دور تک سڑک کے کنارے گنا لانے والوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی ، کسان اپنا اپنا گنا ٹریکٹر پر لاد کر یہاں لائے تھے اور اب اپنی باری کے انتظار میں کھڑے تھے۔ سب سے پہلے یہ منظر میں نے مشرقی یوپی میں شاہ گنج کی پل میں دیکھا تھا۔ اس وقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader