ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
حاصل کی۔ حتیٰ کہ "مسلح جہاد" کی باتیں کرنے والے لوگ بھی مہاتما گاندھی کے پیرو بن گئے۔ ناگپور کے زمانہ قیام میں کثرت سے لوگ ملاقات کے لیے آتے رہے۔ ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو جاری رہی۔ ایک صاحب نے کہا کہ امریکہ کے صدارتی الیکشن کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے اس سے دو خاص سبق لیے ہیں۔ ایک یہ کہ ۴ نومبر ۱۹۹۲ کو جیسے ہی ٹی وی پر آ گیا کہ بل کلنٹن جیت گئے ۔ تو اگرچہ اس سے پہلے جارج بش نے ان کے خلاف بہت سخت سخت ریمارک دیے تھے ، انھوں نے فوراً کہا کہ امریکی عوام نے فیصلہ دے دیا ہے، اور ہم اپنی ہار کو تسلیم کرتے ہیں ۔ دوسری بات یہ کہ جارج بش ہمیشہ ہائی پروفائل میں بولتے تھے۔ وہ اپنی انتخابی تقریر ہوں میں امریکی گلوری کی بات کرتے تھے۔ ان کا نعرہ تھا کہ امریکہ اول (America first) اس کے مقابلہ میں بل کلنٹن لو پروفائل میں بولتے تھے۔ انھوں نے ایک پمفلٹ شائع کیا تھا جس کا ٹائٹل تھا : the economy, the economy and the economy. مگر امریکی عوام نے ہائی پروفائل میں بولنے والے کو رد کر دیا اور لو پروفائل میں بولنے والے کو قبول کر لیا۔ ان دونوں باتوں کا تقابل ہندوستان جیسے ملکوں سے کیجئے ۔ ہمارے یہاں ہائی پروفائل میں بولنے والے کو مقبولیت ملتی ہے اور لو پروفائل میں بولنے والے کو رد کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے یہاں جو پارٹی الیکشن میں ہار جاتی ہے وہ کبھی اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتی۔ الیکشن کے بعد اس کی ساری کوشش اس میں لگ جاتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح جیتنے والی پارٹی کو نا کام بنا دے۔ پاکستان کے اسلامی لیڈروں نے بھی ٹھیک اسی سطحی کردار کا ثبوت دیا ہے اور ہندوستان کے سیکولر لیڈروں نے بھی۔ یہ علم اور جہل کا فرق ہے۔ مغربی ملکوں میں لوگ تعلیم یافتہ ہیں، اس لیے وہ لوگ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے ہیں اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ہندوستان جیسے ملکوں میں بیشتر لوگ جاہل یا نیم جاہل ہیں۔ وہ باتوں کو صرف سطحی طور پر دیکھ پاتے ہیں۔ وہ محض جذبات کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تیسری دنیا میں ابھی تک اعلیٰ معیار کی سیاست پیدانہ ہو سکی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader