Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

تبلیغی جماعت کے ایک بزرگ سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میں تبلیغی جماعت کی قدر کرتا ہوں ۔ حتی کہ میں خود بھی جماعت میں کئی بار گیا ہوں ۔ میرا خیال ہے کہ تبلیغی جماعت عوام کی اصلاح کے لیے مفید ہے۔ مگر وہ خواص کی اصلاح میں کارگر نہیں ہو سکتی۔ تبلیغی جماعت فضائل کی بنیاد پر چلائی جارہی ہے۔ اور فضائل کا طریقہ صرف عوام کو متاثر کر سکتا ہے، خواص کو متاثر کرنے کی طاقت اس کے اندر نہیں۔ الرسالمشن اس کے مقابلہ میں خواص کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ چنانچہ وہ دلائل کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے اور خواص کا طبقہ بڑی تعداد میں اس سے متاثر ہے۔ عوام کے طبقہ میں بلاشبہ تبلیغی جماعت زیادہ پھیلی ہوئی ہے، مگر خواص کے طبقہ میں ، الرسالمشن کا نفوذ، تبلیغی جماعت سمیت، تمام تحریکوں اور جماعتوں سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الرسالمشن کا اسلوب آج کے اسٹیجکول کلاس کو متاثر کرتا ہے۔ تبلیغی جماعت میں اگر خواص کو داخل کیا جائے تو موجودہ حالت میں وہ تعمیم خواص کے ہم معنی ہو گا ۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ عوام کو تبلیغی جماعت کے ساتھ جوڑا جائے اور خواص کو الرسالم مشن سے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ مسلمانوں کو بزدلی سکھارہے ہیں۔ میں نے کہا کہ بزدلی تو نہیں، البتہ ہم مسلمانوں کو صبر دا عراض سکھاتے ہیں ۔ اور اب مسلمان اس کو سیکھ چکے۔ آپ جیسے فرضی مجاہدین کو اب مسلمان بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ پچھلے دو سال کے اندر وہ واقعات کثرت سے ہوئے جن واقعات پر سوال اس سے پہلے بھڑک جاتے تھے۔ مگر اس مدت میں انھوں نے اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونے کا طریقہ اختیار کیا۔ چنانچہ فسادات بھی حیرت انگیز طور پر بہت کم ہوئے ۔ اس سلسلہ میں اخبارات ورسائل میں متعدد سروے آ چکے ہیں۔ تازہ ترین سروے انڈیا ٹوڈے (۳۱ اکتوبر ۱۹۹۲) کا ہے ۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ مسلم نوجوان اب ایک نئے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جذباتی رہ نماؤں کی پیروی نہیں کریں گے بلکہ مثبت انداز میں اپنے مستقبل کی تعمیر کریں گے۔ انڈیا ٹوڈے نے اس کو مسلم نوجوانوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page